انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 365

انوار العلوم جلد ۱۶ چونکہ تم میرے غلام بنے ہو اس لئے میں تمہیں بادشاہ بنادوں گا۔ سیر روحانی (۳) خدا تعالیٰ کی سچی غلامی اختیار کرنے دنیا میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ کسی نے سچے دل سے خدا تعالیٰ کی غلامی اختیار کر لی تو والے دنیا میں بھی بادشاہ بنا دیئے گئے خدا نے اُسے بادشاہ بنا دیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق کسی کو خیال بھی نہیں آتا تھا کہ وہ حکومت کر سکتے ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی خیال کے تھے ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور انصار اور مہاجرین میں خلافت کے بارہ میں کچھ اختلاف ہو گیا اور اس اختلاف کی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ہوئی تو وہ فوراً اس مجلس میں گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمجھتے تھے کہ اس مجلس میں بولنے کا میرا حق ہے ابو بکر خلافت کے متعلق کیا دلائل دے سکتے ہیں ؟ مگر وہ کہتے ہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جاتے ہی تقریر شروع کر دی اور ایسی تقریر کی کہ میں نے جس قدر دلیلیں سوچی ہوئی تھیں وہ سب اس میں آ گئیں مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تقریر ختم نہ ہوئی اور وہ اور زیادہ دلائل دیتے چلے گئے ، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ میں ابوبکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وجاہت ابو بکر مکہ کے رؤساء کے مقابل پر کوئی خاص اعزاز نہیں رکھتے تھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ایک معزز خاندان میں سے تھے ، مگر معزز خاندان میں سے ہونا اور بات ہے اور ایسی رکھنا کہ سارا عرب اُن کی حکومت کو برداشت کر لے بالکل اور بات ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلافت عطا فرمائی اور مکہ میں یہ خبر پہنچی کہ حضرت ابوبکر خلیفہ ہو گئے ہیں تو ایک مجلس جس میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے باپ ابو قحافہ بھی بیٹھے ہوئے تھے وہاں بھی کسی نے جا کر یہ خبر سنا دی ابو قحافہ یہ خبر سن کر کہنے لگے ، کونسا ابو بکر ؟ وہ کہنے لگا وہی ابوبکر جو تمہارا بیٹا ہے ۔ کہنے لگے کہ کیا میرے بیٹے کو عرب نے اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا ہے؟ اُس نے کہا ہاں ۔ ابو قحافہ آخر عمر میں اسلام لائے تھے اور ابھی ایمان میں زیادہ پختہ نہیں تھے مگر جب انہوں نے یہ بات سنی تو بے اختیار کہہ اٹھے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ۔ محمد رسول اللہ ضرور سچے ہیں جن کی غلامی اختیار کر کے ابوبکر بادشاہ بن گیا اور عرب جیسی قوم نے اس کی بادشاہت کو قبول کر لیا۔ تو دُنیوی لحاظ سے کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ آپ بادشاہ بن جائیں گے مگر خدا نے آپ کو بادشاہ بنا کر دکھا دیا۔