انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 364

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) طرح عیاشی میں لوگ افیون کھا کھا کر غفلت پیدا کرتے ہیں ، مگر اللہ تعالیٰ نے جنت میں کہیں بھی سونے کا ذکر نہیں کیا ، ہمیشہ کام کی طرف ہی اشارہ کیا ہے اس لئے یہاں بھی یہ نہیں فرمایا کہ وہ وہاں چار پائیوں پر سو رہے ہوں گے بلکہ فرمایا علی سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ مُّتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقبِلِينَ وہ اس پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور تکیہ لگانا راحت اور استراحت پردا پر دلالت کرتا ہے غفلت پر نہیں ۔ ہم کتابیں پڑھتے ہیں ، اعلیٰ مضامین پر غور کرتے ہیں تو تکیہ لگائے ہوئے ہوتے ہیں مگر اُس وقت ہمارے اندر غفلت یا نیند نہیں ہوتی ۔ مگر چونکہ تکیہ عموماً لوگ سوتے وقت لگاتے ہیں اور اس سے قحبہ پڑ سکتا تھا کہ شاید وہ سونے کے لئے تکیہ لگا ئیں گے اس لئے ساتھ ہی فرما دیا متقبلين وہ ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہوئے ہوں گے اور سوتے وقت کوئی ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے نہیں بیٹھا کرتا۔ ایک دوسرے کی طرف منہ کرنے کے معنے یہی ہیں کہ انہیں آرام کرنے کے لئے چار پائیاں ملی ہوئی ہوں گی اور وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہونگے مگر سونے کے لئے نہیں ، غفلت کے لئے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے خدا تعالیٰ کی معرفت کی باتیں کر رہے ہونگے اور اُس کا ذکر کر کے اپنے ایمان اور عرفان کو بڑھاتے رہیں گے ۔ شاہانہ اعزاز و اکر اسی طرح فرماتا ہے فِيهَا سُرُرٌ مَّرْفُوعَةٌ وَأَكْوَابٌ اعزاز و اکرام مَوْضُوعَةٌ وَنَصَارِقُ مَصْفُوفَةٌ والي مولة ان پہلی آیت میں سُورٍ مَّوْضُونَةٍ کا ذکر آتا تھا مگر یہاں فرمایا کہ سُورٌ مَّرْفُوعَةٌ ہونگے ۔ سَرِير کا لفظ جب عربی زبان میں بولا جائے اور اس کی وضاحت نہ کی جائے تو اس کے معنے تخت بادشاہی کے ہوتے ہیں۔ چار پائی کے معنے تب ہوتے ہیں جب ساتھ کوئی ایسا لفظ ہو جو چار پائی کی طرف اشارہ کر رہا ہو۔ جیسے سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ کے الفاظ تھے، لیکن اگر خالی سُود کا لفظ آئے تو اس کے معنے تخت شاہی کے ہوں گے اور جب کوئی اور معنی مراد ہوں تو سور کے ساتھ تشریح کے لئے ضرور کوئی لفظ ہوگا۔ یہاں چونکہ خالی سُود کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس لئے اس سے مراد تخت شاہی ہی ہے اور پھر تخت شاہی کی طرف مزید اشارہ کرنے کے لئے مَرْفُوعَةٌ کہہ دیا، کیونکہ تخت شاہی اونچا رکھا جاتا ہے ، مطلب یہ کہ جنتی وہاں بادشاہوں کی طرح رہیں گے۔ دنیا میں تو وہ غلام بنا کر رکھے جاتے تھے مگر جب انہوں نے خدا کے لئے غلامی اختیار کر لی اور اُسے کہہ دیا کہ اے ہمارے رب! ہم تیرے غلام بن گئے ہیں تو خدا نے بھی کہہ دیا کہ اے میرے بندو!