انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 603

انوار العلوم جلد ۱۵ پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے امته الودود میری بچی حالات اور میرے برے دل میں بھی ا بھی ایک دفعہ یہ شعر آیا مگر جب جب میں نے غور کیا تو یہ شعر تیرے۔ کے بالکل خلاف تھا۔ تو تو اس باغ میں گئی ہے جس پر کبھی خزاں ہی نہیں آتی ۔ حی وقیوم خدا کی جنات عدن میں مرجھانے کا کیا ذکر ۔ اے ہمارے باغ کے غنچے ! تو گل سے اللہ تعالیٰ کے باغ کا پھول بن چکا ہے ہمارے دل مرجھا رے دل مرجھا بھی سکتے ہیں، غمگین بھی ہو سکتے ہیں مگر تیرے لئے اب کوئی مرجھانا نہیں اب تیرا کام یہی ہے کہ ہر روز پہلے سے زیادہ سرسبز ہو پہلے سے زیادہ پُر رونق ہو۔ جب تیری جان نکلی تو میں ایک کونے میں جا کر سجدہ میں گر گیا تھا اور بعد میں بھی آخری دُعا وقتا فو قا ع کرتا رہا یہاں تک کہ تجھے دفن کر کے واپس آئے اور وہ دُعاء یہ تھی ۔ کہ اے اللہ تعالیٰ ! یہ نا تجربہ کار روح تیرے حضور میں آئی ہے تیرے فرشتے اس کے استقبال کو آئیں کہ اسے تنہائی محسوس نہ ہو ۔ اس کے دادا کی روح اسے اپنی گود میں اٹھا لے کہ یہ اپنے آپ کا ہاتھ اس کے سر پر ہو کہ وہ بھی اس کے صلى الله عروسه کو اجنبیوں میں محسوس نہ کرے ۔ محمد رسول اللہ علی کا روحانی دادا ہیں اور تیری آنکھوں کے سامنے تیری جنت میں یہ بڑھے۔ یہاں تک کہ تیری بخشش کی چادر اوڑھے ہوئے ہم بھی وہاں آئیں اور اس کے خوش چہرہ کو دیکھ کر مسرور ہوں ۔ اسی دعا کے ساتھ میں اب بھی تجھے رخصت کرتا ہوں ۔ جا میری بچی تیرا اللہ حافظ ہو۔ اللہ حافظ ہو ! مرزا محمود احمد ( الفضل ۲۳ جون ۱۹۴۰ء ) الرحمن: ۲۷، ۲۸ البقرة: ۱۵۷