انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 602 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 602

انوار العلوم جلد ۱۵ امته الودود میری بچی کرتا تھا کہ میری بچی اللہ تمہارا حافظ ہو اور پھر پیار کر کے رخصت کیا کرتا تھا۔ اس دن میں نے یہ الفاظ تو کہے مگر اُٹھ کر اُسے پیار دے کر رخصت نہیں کیا ۔ میں نے اس کے چہرہ پر کچھ ملال کے آثار دیکھے اور کہا میں آج بیمار ہوں اُٹھ نہیں سکتا چوتھے دن اسی بیماری کی حالت میں مجھے اس کی بیماری کی وجہ سے جانا پڑا اور میں نے جاتے ہی اس کے ماتھے کو چوما مگر اب وہ بے ہوش تھی اب اس کے چچا ابا کا پیار اس کے لئے خوشی کا موجب نہیں ہو سکتا تھا اور اسی بے ہوشی کی حالت میں وہ فوت ہوگئی ۔ ہاں وہ بچی جس نے اپنی ساری عمر علم سیکھنے میں خرچ کر دی اور باوجود شرمیلی طبیعت کے میرے کہنے پر اس پر آمادہ ہو گئی کہ اپنی جنس کی بہتری کیلئے وہ مضمون لکھا کرے گی ۔ جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئی کیونکہ خدا تعالیٰ کا منشاء کچھ اور تھا۔ وہ اسے وہاں لے گیا جہاں باتیں نہیں کی جاتیں ، جہاں کام کیا جاتا ہے، جہاں کوئی کسی انسان کی نصیحت کا محتاج نہیں ، جہاں صرف اللہ ہی ہراک کا ہادی ہوتا ہے۔ امة الودود کو الوداع امة الودود جب تم اس دنیا میں تھیں میں تمہاری عارضی رخصت پر نہایت محبت سے کہا کرتا تھا۔ جاؤ میری بچی تمہارا اللہ حافظ ہو ۔ اب تو تم دیر کیلئے ہم سے جدا ہو رہی ہواب تو اس سے بھی زیادہ درد کے ساتھ میرے دل سے یہ نکل رہا ہے کہ جاؤ میری بچی تمہارا اللہ حافظ ہو۔ نادان کہیں گے دیکھو یہ ایک مردہ سے باتیں کرتا ہے۔ مگر مردہ تم نہیں وہ ہے۔ نمازیں پڑھنے والے، اپنے رب سے رو رو کر دعائیں کرنے والے بھی کبھی مرا کرتے ہیں اور تم تو بڑی دعائیں کرنی والی اور دعاؤں پر یقین رکھنے والی بچی تھیں ۔ اپنی موت سے دو تین گھنٹے پہلے جو بات تو نے اپنی چچیری بہن سے کہی وہ اس پر شاہد ہے ۔ اس نے مجھے کہا کہ میں شام کو امۃ الودود کو ملنے آئی تو اس نے مجھے باتوں باتوں میں کہا کہ میرے دل پر جنگ کا بہت اثر ہے اور میں اس کے متعلق بہت دعائیں کرتی ہوں ۔ امۃ الحمید ( بہن کا نام ) تم بھی آج کل دعائیں کیا کرو۔ تو اسے بچی! تو جو دنیا کی تکلیف کے احساس سے اپنے رب کے آگے رویا کرتی تھی تجھے اللہ تعالیٰ کب موت دے سکتا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ہماری آوازیں تیرے تک پہنچاتا رہے گا اور تیری آواز ہمارے تک پہنچاتا رہے گا۔ ہماری جدائی عارضی ہے اور تیری نئی جگہ یقیناً پہلی سے اچھی ہے دنیوی خیالات کے ماتحت تیری اس بے وقت موت کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا تھا کہ :۔