انوارالعلوم (جلد 15) — Page 423
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کہ اگر نظام خلافت کا اصول مذہبی نہیں تو چونکہ یہ نقل ہے رسول کریم ﷺ کے اعمال کی اس لئے ان کے وہ اعمال بھی مذہبی نہیں ہوں گے جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے لئے ان کی اتباع ضروری نہیں ہو گی جیسے کپڑوں اور کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق کوئی نہیں کہتا کہ رسول کریم علی نے فلاں نے فلاں قسم کے کپڑے پہنے یا فلاں کھانا کھا یا اس لئے لازماً وہی کپڑا پہننا اور وہی کھانا کھانا چاہئے ۔ مثلاً کوئی نہیں کہتا کہ رسول کریم ﷺ چونکہ تہہ بند باندھا کرتے تھے اس لئے تم بھی تہہ بند باندھو یا رسول کریم چونکہ کھجوریں کھایا کرتے تھے اس لئے تم بھی کھجوریں کھاؤ بلکہ اس سے اصولی رنگ میں ایک نتیجہ اخذ کر لیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ انسان کو سادہ زندگی بسر کرنی چاہئے ۔ اسی طرح اگر رسول کریم ﷺ کے ان اعمال کو جو نظام کے قیام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں شرعی نہیں سمجھا جائے گا بلکہ ضرورت زمانہ کے ماتحت قرار دیا جائے گا تو وہ ہمارے لئے محبت نہیں ہوں گے اور ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکیں گے کہ عرب میں دشمنوں کی حکومت چونکہ ٹوٹ گئی تھی اور وہ سب آپ کے تابع ہو گئے تھے اس لئے آپ مجبور تھے کہ کوئی نہ کوئی نظام قائم کریں اور چونکہ نظام کے قیام کیلئے کچھ قوانین کی بھی ضرورت تھی اس لئے آپ نے بعض قوانین بھی بنا دیئے اور اس سے آپ کی غرض محض ان لوگوں کی اصلاح تھی ۔ یہ غرض نہیں تھی کہ کوئی ایسا نظام قائم کریں جسے ہمیشہ کیلئے مذہبی تائید حاصل ہو جائے ۔ غرض اس عقیدہ کو تسلیم کرنے سے یہ صلى الله علی امر لاز ما تسلیم کرنا پڑے گا کہ خود رسول کریم ﷺ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تو تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ وہ کام محض ضرورت زمانہ کے ماتحت آپ کرتے تھے اسے کوئی مذہبی تائید حاصل نہ تھی اگر مذہبی تائید حاصل ہوتی تو وہ بعد کے لوگوں کیلئے بھی سنت اور قابلِ عمل قرار پاتے ۔ یہ ایک طبعی نتیجہ ہے جو اس عقیدہ سے پیدا ہوتا ہے مگر منکرین خلافت اس طبعی نتیجہ کو ہمیشہ لوگوں کی نگاہوں سے مخفی رکھنے کی کوشش کرتے چلے آئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ کہہ دیا کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کا وہ حصہ جو سلطنت کے اُمور کے انصراح کے متعلق تھا محض ایک دُنیوی کام تھا اور وقتی ضرورتوں کے ماتحت تھا تو مسلمان اسے برداشت نہیں کریں گے اور وہ کہیں گے کہ تم رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے تے ہو اسی لئے خلافت کے منکر راس اس بارہ بارہ میں ہمیشہ غیر منطقی طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں مگر علی بن عبدالرزاق جو جامعہ ازہر کے شیوخ میں سے ہے اس نے آزادی اور دلیری سے اس موضوع پر بحث کی ہے اور اس وجہ سے قدرتی طور پر وہ اسی نتیجہ پر پہنچا ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ چنانچہ یہ عجیب تو ارد ہوا کہ ادھر جب اس مضمون صلى الله عروسة