انوارالعلوم (جلد 15) — Page 422
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده ہندوؤں اور عیسائیوں کو ہی نقصان پہنچتا ہے اسلام کو اس سے کیا ڈر ہے کیونکہ اگر وہی بات اسلام میں بھی پائی جاتی ہے تو ہمارا فرض ہوگا کہ ہم اس اعتراض کا ازالہ کریں کیونکہ اگر لوگ اس کی وجہ سے مذہب سے بدظن ہونگے تو صرف ہندوؤں اور عیسائیوں سے ہی نہیں ہونگے بلکہ مسلمانوں سے بھی ہونگے ۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ ہم خلافتِ احمد یہ کے ثبوت کے لئے رسول ثبوت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین کی مثال لوگوں کے سامنے پیش کیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس طرح حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہوئے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی خلافت کا وجود ضروری ہے ۔ اگر وہی فت اُڑ جائے تو لازماً خلافت احمد یہ بھی باطل ہو جائے گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام کے قیام سے تعلق اس کے ساتھ ایک اور بات رکھنے والا حصہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے یا غیر مذہبی؟ بھی یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اگر اس عقیدہ کو درست تسلیم کر لیا جائے جو علی بن عبدالرزاق نے لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور جسے غیر مبائعین بھی پیش کرتے ہیں تو اس سے ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ آیا رسول کریم ﷺ کے اعمال کا وہ حصہ جو نظام کے قیام سے تعلق رکھتا ہے مذہبی حیثیت رکھتا ہے یا غیر مذہبی ۔ کیونکہ جب ہم یہ فیصلہ کر دیں کہ اسلام کوئی معین نظام پیش نہیں کرتا بلکہ حضرت ابو بکر ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان ، اور حضرت علیؓ کی خلافت مسلمانوں کا صلى الله عل وسام ایک وقتی فیصلہ تھا اور وہ نظام مملکت کے استحکام کیلئے جو کام کرتے ۔ جو کام کرتے تھے وہ محض رسول کریم ﷺ کی نیابت میں کرتے تھے تو طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اعمال جو حکومت اور نظام کے قیام سے تعلق رکھتے تھے وہ محض ضرورت زمانہ کے ماتحت آپ سے صادر ہوتے تھے یا اسے کوئی مذہبی تائید بھی حاصل تھی ۔ اگر وہ وقتی ضرورت کے ماتحت تھے تو حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علیؓ نے آپ کے تتبع میں جو کچھ بھی کیا ہوگا وقتی ضرورت کے ماتحت کیا ہو گا اور وہ ہمارے لئے محبت شرعی نہیں ہوگا اور اگر رسول کریم ﷺ کے وہ اعمال جو حکومت اور نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مذہبی حیثیت رکھتے تھے تو لازماً ہمیں ان سے سند لینی پڑے گی ۔ پس یہ سوال صرف خلفاء تک محدود نہیں رہتا بلکہ رسول کریم ﷺ تک بھی جا پہنچتا ہے