انوارالعلوم (جلد 15) — Page 361
انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب حضرت ابو بکر اس لئے روئے کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا ۔ آپ جانتے تھے کہ اگر پکڑے گئے تو میرا کیا ہے میں تو ایک عام آدمی ہوں لیکن اگر آنحضرت ﷺ کو کوئی گزند پہنچا تو کیا ہو گا آپ کی ذات پر تو دین کا انحصار ہے اس لئے آپ کا تمام حُزن اس وجہ سے تھا کہ دنیا دین سے محروم رہ جائے گی چنانچہ آپ نے اس وقت جو الفاظ کہے وہ یہی تھے کہ يَا رَسُولَ اللهِ! اگر میں مارا گیا تو کیا ہے میں تو ایک عام آدمی ہوں میرے جیسے پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن آپ کی ذات پر تو دین کا انحصار ہے۔ یہ خون بالکل بے مثال ہے اور اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی بے مثال ہے۔ اُس وقت کفار کو دشمنی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھی اس لئے اصل مصیبت آپ کے لئے تھی۔ حضرت ابو بکر سے کفار کو کوئی ذاتی دشمنی ب تھی ان کو تو شاید وہ چھوڑ بھی دیتے اس لئے اگر ذاتی غم ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوتا مگر حضرت ابو بکر کی شان یہ ہے کہ آپ کہتے ہیں يَا رَسُولَ اللهِ! مجھے اپنی ذات کا کوئی غم نہیں بلکہ آپ کا ہے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان یہ ہے کہ گو اصل مصیبت آپ پر ہے مگر تسلی حضرت ابو بکر کو دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کا تحزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا جس پر تکالیف کا وقت ہے وہ دوسرے کو تسلی دے رہا ہے اور اسے تسلی دے رہا ہے جس پر مصیبت نہیں ۔ گویا آپ کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے نجات دے گا اور یہ یقین جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہو جائے تو پھر اس کی کامیابی کو کوئی نہیں روک سکتا ۔ نو جوانوں کو جو نا کا میاں ہوتی ہیں اس کی ایک وجہ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ان کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین اور تو کل نہیں ہوتا اس لئے وہ لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں لوگ مد د نہیں کرتے ، لوگ چندہ نہیں دیتے ۔ ان کو جتنی اُمید لوگوں سے ہوتی ہے اس کا اگر ہزارواں حصہ بھی خدا تعالیٰ پر ہو تو وہ یقیناً کامیاب ہو جائیں ۔ پس میں نو جوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ یہ یقین اور یہ تو کل اپنے اندر پیدا کریں۔ اس کے بعد میں دُعا کر دیتا ہوں دوست بھی دُعا کریں۔ پھر خدام الاحمد یہ والے شاید اپنی رپورٹ سنائیں گے میں تو چلا جاؤں گا کیونکہ مجھے کام ہے مگر دوست بیٹھے رہیں ۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو کامیاب کرے۔ لیکن یاد رکھیں کہ اصل بات وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے کہ کامیابی کے لئے اتقاء بہت ضروری چیز ہے ۔ اتقاء کے معنے بھی یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنا لینا اور یہی چیز ہمیں کامیاب کر سکتی ہے ورنہ اگر ہماری