انوارالعلوم (جلد 14) — Page 465
انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض کرنے کیلئے آتے ہیں۔ اور سچائی اور انصاف اور رحم ، جھوٹ اور بے انصافی اور ظلم سے بے مانی اور ظلم سے کبھی قائم نہیں ہو سکتے ۔ اگر ایک صداقت اپنے قائم ہونے کیلئے جھوٹ کی محتاج ہے تو اس کا قائم نہ ہونا قائم ہونے سے بہتر ہے کیونکہ اگر وہ اپنے قیام کیلئے جھوٹ کی محتاج ہے تو اس و اس کے یہ معنے ہیں کہ اس سے پہلے تو جھوٹ ایک گناہ کی شکل میں دنیا میں رائج تھا مگر اس سچائی کے قیام کیلئے وہ ایک نیکی کی شکل میں قائم ہوا اور اس کا انکار کون کر سکتا ہے کہ وہ جھوٹ جو گناہ کی صورت میں رائج ہو مٹایا جا سکتا ہے مگر وہ جھوٹ جو نیکی کی شکل میں رائج ہو مٹا یا نہیں جا سکتا کیونکہ اس کے مرتکب اسے خدا کی رضا کا موجب سمجھ کر اختیار کرتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جو چیز خدا تعالیٰ کی رضا کا موجب سمجھی جائے ، اُسے چھوڑنے کیلئے کوئی تیار نہ ہوگا۔ پس میں اپنے دوستوں کو ہوشیار کرتا ہوں کہ اگر ان میں سے کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ اسلام جھوٹ اور ظلم اور بے انصافی کی مدد کا محتاج ہے تو وہ اِس خیال کو جس قد ر جلد ہو سکے دل سے نکال دے کیونکہ ایسا خیال رکھنا دوسرے الفاظ میں اس امر کا اقرار کرنا ہے کہ اسلام سچا مذہب نہیں اور خدا کی مدد سے فتح نہیں پا سکتا بلکہ شیطان کی مدد سے فتح پاتا ہے کیونکہ جھوٹ اور بے انصافی اور ظلم شیطانی ہتھیار ہیں ، خدا تعالیٰ کے ہتھیار نہیں ہیں اور شیطانی ہتھیار کی۔ فتح پانے والی تھے یقیناً شیطانی ہی ہوگی ۔ یقیناً مدد سے آنکھوں کے آنسوؤں سے پس یہ اسلام پر ظلم اور خدا تعالی پر بدلنی ہے کہ - اسلام کو اپنی تائید کیلئے غیر اسلامی ہتھیاروں کی گناہ کی آگ کو بجھا میں ضرورت ہے۔ پس چاہئے کہ جو دوست اس غلطی میں مبتلا ہوں ، وہ وہ جلد سے جلد تو بہ کریں اور اپنے لئے بھی اور اپنے جیسے دوسرے دوسرے غلطی خورده لوگوں کے لئے بھی استغفار کریں اور اپنی آنکھوں کے آنسوؤں سے گناہ کی آگ کو بجھائیں کہ اس آگ کو یہی پانی بجھا سکتا ہے۔ قانون کو ہاتھ میں لینے والے میں نے اس خیال سے کہ شاید اس قسم کی غلطی میں بعض افراد جماعت مبتلا نہ ہوں ، اعلان کیا سے کیا سلوک کیا جائیگا ہے کہ جو شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور کسی ذاتی یا جماعتی مخالف پر ہاتھ اُٹھائے گا ، اُسے میں آئندہ فوراً جماعت سے خارج کر دوں گا اور میں اس اعلان کو پھر اس جگہ دُہرا دیتا ہوں ۔ دوستوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ مجرم کو سزا دینا