انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 464

انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض اسے صحیح تسلیم کرتے ہوئے اس پر اپنے خیالات کا اظہار کروں ۔ قانون کی یا بندی کا حکم جیسا ایرانی کہ میں بار بار بار بار پہلے کہہ چکا ہوں اسلام ہمیں قانون کا ہے اور ہمیں کسی امر کی صداقت کا وں سزا خواہ کس قدر بھی یقین ہو وہ ہمیں اجازت نہیں دیتا کہ اپنے یقین کی وجہ سے کسی کو خود ہی سزا دے دیں اور اگر ہم ایسا کریں تو اسلام ہمیں مجرم ٹھہراتا ہے اور قابلِ سزا گر دانتا ہے۔ اس امر میں اسلام نے اس قدر سختی سے کام لیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ا نے اپنے ہاتھوں ۔ دینے والے کو ویسا ہی مجرم قرار دیا ہے جیسا کہ بلا وجہ حملہ کرنے والے کو ۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رَسُولَ اللہ ! اگر کوئی شادی شدہ زنا کرے تو اُس کی سزا رجم ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں ۔ اُس نے کہا یا رَسُولَ الله ! اس صورت میں اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپنی بیوی سے بدکاری کرتے ہوئے دیکھے اور اُسے قتل کر دے تو اس پر کوئی گناہ تو نہ ہو گا ۔ آپ نے فرمایا سزا دینا اُس کا کام نہیں یہ عدالت کا کام ہے، اگر وہ ایسے اشتعال کے باوجو د سزا دے گا تو بھی اسے قاتل سمجھا جائے گا اور وہ خود شریعت کا مجرم بن جائے گا لے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صریح فتویٰ کے بعد قیاس اجتہاد کی کوئی صور صورت ہمارے لئے باقی نہیں رہتی اور اگر ہم سچے مسلم ہیں تو ہمیں یقینا آپ کے ادنیٰ سے ادنی ارشاد کے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور میرے نزدیک میاں عزیز احمد کے دوستوں کی سچی خیر خواہی اور دوستی یہی ہوگی کہ وہ ان کو بتائیں کہ انہوں نے غلطی کی ہے اور اسلام کی تعلیم کے خلاف کیا ہے اور خواہ کس قدر اشتعال کے ماتحت ہی ان کا فعل کیوں نہ ہو، وہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور ان کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تو بہ اور استغفار کریں اور پھر تو بہ اور استغفار کریں اور پھر توبہ اور استغفار کریں اور توبہ اور استغفار کرتے ہی جائیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے قصور کو معاف کر دے اور اُس کی بخشش ان کو ڈھانپ لے کیونکہ گناہ گناہ ہی ہے خواہ اسلام کی تائید کے نام پر کیا جائے یا اپنے نفس کی خواہشات کے ماتحت کیا اور اجتہاد جائے ۔ اسلام جھوٹ ظلم اور ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ سلسلہ ایک سچا سلسلہ ہے اور خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے اور خدا تعالیٰ کے قائم بے انصافی کا محتاج نہیں ہے کردہ سلسلے ہمیشہ سچائی اور انصاف اور رحم قائم