انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 428

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمد یہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ ہوئی اور میں نے یہ روپے وصول پالئے تھے۔ محمد الحق مالک سیالکوٹ ہاؤس قادیان“۔ اب آپ لوگ ان شہادتوں کو دیکھیں اور فخر الدین کے اِس اعتراض کو دیکھیں کہ جب خلیفہ کو معلوم ہوا کہ احسان علی رپورٹ کرنے والا ہے تو جرمانہ کو وصول ہی نہیں کیا گیا۔ کیا یہ سلسلہ اتہامات اُس گندی ذہنیت کو واضح نہیں کرتا جو میاں فخر الدین صاحب کے دل میں خلیفہ کے خلاف پیدا ہو چکی تھی ۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ۔ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِباً أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ هے ایک آدمی کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کر دے ۔ ایک شکایت انہوں نے یہ کی ہے کہ چند روز کا واقعہ ہے ۔ مولوی ظفر محمد صاحب مجھے بھائی قادیانی صاحب کے مکان کے قریب ملے ۔ اور اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ کر کے کہا کہ اب میں امور عامہ میں آ گیا ہوں اور گیا ہوں اور پھر ہنس دیئے ۔ اِس کا مطلب وہ یہ ۔ یہ لیتے ہیں کہ گویا انہیں دھمکی دی گئی ۔ 66 اس کے متعلق حضور نے مولوی ظفر محمد مولوی ظفر محمد صاحب کا حلفیہ بیان صاحب کا لفی بیان لیا۔ تو مولوی صاحب نے کہا کہ مجھ سے فخر الدین صاحب نے خود دریافت کیا تھا کہ تبلیغ سے واپس آ کر کہاں لگے ہو ۔ تو میں نے کہا کہ امور عامہ میں ۔ تو کہا کہ خدا خیر کرے ۔ سید ولی اللہ شاہ صاحب کی حلفیہ تصدیق (جناب سید ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ نے بھی اس امر کی تصدیق حلفیہ کی اور بتایا کہ مجھے فخر الدین صاحب نے خود یہ واقعہ سنایا تھا اور کہا تھا کہ آج مجھے مولوی ظفر محمد صاحب ملے تھے اور میں نے کہا تھا خدا خیر کرے اور یہ کہ میں نے ظفر محمد کو چڑانے کیلئے ایسا کہا تھا ) ان دونوں شہادتوں سے آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح میاں فخرالدین صاحب اپنی براءت کیلئے باتوں کو الٹ پھیر کر بیان کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد حضور نے سید محمد سعید صاحب سلیم کا بیان پڑھ کر سنایا کہ چند روز ہوئے محاسب کے دفتر کے پاس مجھے بابو فخر الدین صاحب ملے اور کہا کہ مہا شہ فضل حسین صاحب کو یہ خوشخبری سنادینا کہ اب میرا بائیکاٹ ہونے والا ہے جس سے بکڈ پو کو فائدہ ہوگا۔ اور جناب سید