انوارالعلوم (جلد 14) — Page iii
فتنوں کا سامنا کرنا پڑا وہاں تحریک جدید کی الہی سکیم کے ذریعہ جماعتی ترقی کے سامان بھی کئے گئے ۔ مجلس احرار نے حکومتی پشت پناہی میں جماعت کے خلاف شورش برپا کی اور قادیان آ کر جلسے جلوس کر کے جماعت احمدیہ کے خلاف گندا چھالا ۔ ان حالات میں خدا تعالیٰ بھی اپنی تقدیر جاری کر رہا تھا۔ ایک طرف تو حضرت مصلح موعود نے تحریک جدید کے عالمگیر مہم جاری فرمائی تو دوسری طرف احرار کی ذلت ورسوائی کے سامان شروع ہو گئے ۔ مسجد شہید گنج کے واقعہ میں احرار نے جمہور مسلمانوں کے ساتھ نہ دیا جس پر انہیں ذلت اٹھانی پڑی۔ اس رُسوائی سے رُخ موڑ نے کے لئے احرار نے ایک بار پھر جماعت کے خلاف گندہ دہنی سے کام لینا شروع کر دیا اور مباہلہ کے نام پر قادیان جانے کا اعلان کیا ۔ احرار کے ایک لیڈر پر اس بناء پر مقدمہ بنا اور اُسے جیل جانا پڑا ۔ ان حالات میں جبکہ دشمن جماعت کو مٹانے کے منصوبے بنا رہا تھا حضرت مصلح موعود نے تحریک جدید کی سکیم جاری فرما کر احمدیت کو زمین کے کناروں تک پھیلانے کے عظیم الشان منصوبے کا اعلان فرمایا۔ اور تحریک جدید کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے متعدد خطابات فرمائے جو اس جلد کی زینت ہیں ۔ اس کے علاوہ اس دور میں پیدا ہونے مختلف والے جماعتی ، ملکی اور بین الا قوامی حالات کے پیش نظر جن خیالات کا اظہار حضور نے فرمایا اور ملک وملت کی راہنمائی فرمائی وہ مواد بھی جلد ھذا میں شامل اشاعت ہے ۔ اور احراریوں نے جو شورش جماعت کے خلاف بپا کی تھی اس پر انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذلتوں کی مار پڑی ۔ اِس رُسوائی پر انہوں نے جماعت کے خلاف کئی محاز کھول دیئے تا اپنی شکست حسد کی آگ کو ٹھنڈا کر سکیں ۔ اس کے لئے انہوں نے مناف منافقین کے ساتھ مل کر کر جماعت کے خلاف کھلم کھلا محاذ کو آگاہ فرمایا۔ ان فتنوں کی حقیقت کے بارہ میں بھی سید نا حضرت مصلح موعود نے احباب جماعت کو آگاہ فرمایا۔ اس بارہ میں بھی حضور کی تحریرات جلد ھذا میں شامل ہیں ۔ غرض یہ کہ انوارالعلوم کی یہ جلد تاریخ احمدیت میں رونما ہونے والے کئی اہم واقعات کی حقیقت کے بارہ میں آگاہی دیتی ہے ۔ جہاں اس دور میں جماعت کو بعض اندرونی و بیرونی ابتلاؤں کا سامنا کرنا پڑا وہاں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش بھی احباب جماعت نے