انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 104

<mark>ان</mark>وار العلوم جلد ۱۴ <mark>تحریک</mark> جدید کے مقاصد اور <mark>ان</mark> کی اہمیت جو جماعت کو بہ حیثیت جماعت تیرہ سو سال پیچھے لے جائے۔چن<mark>ان</mark>چہ کچھ سال ہوئے <mark>اس</mark>ی غرض کیلئے میں نے <mark>ان</mark>صار اللہ کی <mark>تحریک</mark> جماعت میں جاری کی تھی مگر <mark>اس</mark> میں کچھ روکیں پیدا ہو گئیں مثلاً ایک روک تو یہی واقعہ ہو گئی کہ جب مجھ سے لوگ <mark>ان</mark>صار اللہ کی ضرورت دریافت کرتے میں <mark>ان</mark>ہیں کہتا کہ میں <mark>اس</mark> کی ضرورت اپنے خطبات میں بی<mark>ان</mark> کروں گا۔<mark>اس</mark> کے بعد میں نے خطبات دیئے مگر چونکہ جماعت میں بیداری نہیں تھی ، <mark>اس</mark> لئے <mark>ان</mark> پر غور نہ کیا گیا۔پھر <mark>ان</mark>صاراللہ کی <mark>تحریک</mark> سے بعض طبائع میں یہ احس<mark>اس</mark> پیدا ہو گیا کہ جماعت میں ایک اور جماعت بن رہی ہے چن<mark>ان</mark>چہ میرے پ<mark>اس</mark> <mark>اس</mark> قسم کی شکایتیں پہنچے لگیں۔<mark>اس</mark> کی وجہ سے میرے دل میں <mark>ان</mark>قباض پیدا ہو گیا کہ ایسا نہ ہو یہ <mark>تحریک</mark> بعض کیلئے ٹھوکر کا موجب بن جائے۔اور چونکہ کسی کی ٹھوکر کے مقابلہ میں وہ فوائد جو <mark>اس</mark> <mark>تحریک</mark> سے حاصل ہو سکتے تھے زیادہ اہم نہیں تھے، <mark>اس</mark> لئے میرا جوش بھی کم ہو گیا۔پھر میں <mark>اس</mark> <mark>ان</mark>تظار میں رہا کہ کوئی ایسا <mark>موقع</mark> آئے جب ساری جماعت ہی <mark>ان</mark>صار اللہ بن جائے اور یہ شکایت نہ رہے کہ جماعت میں ایک اور جماعت بن رہی ہے۔چن<mark>ان</mark>چہ فتنہ احرار سے فائدہ اُٹھا کر میں نے جماعت کے سامنے <mark>تحریک</mark> جدید پیش کر دی۔اور میں <mark>سمجھتا</mark> ہوں <mark>تحریک</mark> جدید کے پیش کرنے کے <mark>موقع</mark> کا <mark>ان</mark>تخاب ایسا اعلیٰ <mark>ان</mark>تخاب تھا <mark>جس</mark> سے بڑھ کر اور کوئی اعلیٰ <mark>ان</mark>تخاب نہیں ہو سکتا۔اور خدا تعالیٰ نے <mark>مجھے</mark> اپنی <mark>زندگی</mark> میں جو <mark>خاص</mark> کا میابیاں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں <mark>ان</mark> میں ایک اہم کامیابی <mark>تحریک</mark> جدید کو عین <mark>وقت</mark> پر پیش کر کے <mark>مجھے</mark> حاصل ہوئی۔اور <mark>یقیناً</mark> میں <mark>سمجھتا</mark> ہوں <mark>جس</mark> <mark>وقت</mark> میں نے یہ <mark>تحریک</mark> کی وہ <mark>میری</mark> <mark>زندگی</mark> کے <mark>خاص</mark> <mark>مواقع</mark> میں سے ایک <mark>موقع</mark> تھا۔اور <mark>میری</mark> <mark>زندگی</mark> کی <mark>ان</mark> <mark>بہترین</mark> <mark><mark>گھڑی</mark>وں</mark> میں سے ایک <mark>گھڑی</mark> تھی جبکہ <mark>مجھے</mark> <mark>اس</mark> <mark>عظیم</mark> الش<mark>ان</mark> کام کی بنیاد رکھنے کی توفیق ملی <mark>اس</mark> <mark>وقت</mark> جماعت کے دل ایسے تھے جیسے چلتے گھوڑے کو جب روکا جائے تو اُس کے دل کی کیفیت ہوتی ہے۔ہماری جماعت بھی <mark>اس</mark> خیال کے ماتحت نہایت آرام اور اطمین<mark>ان</mark> کے ساتھ چلی جارہی تھی کہ وہ ایک منظم اور پُر امن گورنمنٹ کے ماتحت رہتی ہے اور <mark>اس</mark> کیلئے وہ تکالیف اور مصائب نہیں جو پہلے <mark>ان</mark>بیاء کی جماعتوں کو پہنچیں۔<mark>اس</mark> خیال کی وجہ سے <mark>اس</mark> کی طبیعت میں ایک غلط اطمین<mark>ان</mark> تھا اور وہ اپنے آپ کو بعض قسم کی قرب<mark>ان</mark>یوں سے آزاد بجھتی تھی۔ایسے حالات میں گورنمنٹ کی ایک غلطی اور احرار کی شورش نے ایسا <mark>موقع</mark> پیدا کر دیا کہ جماعت نے یہ سمجھ لیا کہ <mark>جس</mark> چیز کو وہ امن سمجھ رہی تھی وہ امن نہیں اور <mark>اس</mark>ے بھی <mark>ان</mark> قرب<mark>ان</mark>یوں کی ضرورت ہے جو <mark>ان</mark>بیائے سابقین کی جماعتوں نے۔