انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 103

<mark>ان</mark>وار العلوم جلد ۱۴ <mark>تحریک</mark> <mark>جدید</mark> کے مقاصد اور <mark>ان</mark> کی <mark>اہم</mark>یت <mark>تحریک</mark> <mark>جدید</mark> اس لئے رکھا ہے کہ بعض لوگوں کیلئے <mark>جدید</mark> چیز لذیذ ہوتی ہے جیسا کہ کہتے ہیں۔كُلُّ جَدِيدٍ لَذِيذ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پر<mark>ان</mark>ی چیز ہے اور جیسا کہ میں <mark>اپنے</mark> ایک پچھلے خطبہ جمعہ میں بی<mark>ان</mark> <mark>کر</mark> چکا ہوں <mark>تحریک</mark> <mark>جدید</mark> کا ایک حکم بھی ایسا نہیں <mark>جو</mark> قرآن <mark>کر</mark>یم میں مو<mark>جو</mark>د نہ ہوا اور ایک حکم بھی ایسا نہیں <mark>جو</mark> رسول <mark>کر</mark>یم ﷺ کے عمل سے ثابت نہ ہو۔گوزم<mark>ان</mark>ہ کے حالات کے مطابق ممکن ہے کسی حکم کی شکل تبدیل ہو گئی ہو۔مثلاً بورڈنگ رسول <mark>کر</mark>یم ﷺ کے زم<mark>ان</mark>ہ میں نہیں ہوتے تھے مگر بچوں کی تربیت کے اصول وہی ہیں <mark>جو</mark> رسول <mark>کر</mark>یم ﷺ نے بی<mark>ان</mark> کئے۔تو <mark>تحریک</mark> <mark>جدید</mark> <mark>جس</mark>ے دراصل میں وہ قدیم <mark>تحریک</mark> کہتا ہوں <mark>جو</mark> آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے رسول <mark>کر</mark>یم ﷺ نے خدا تعالیٰ سے اذن لی<mark>کر</mark> جاری کی۔جب تک جماعت اس کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش نہیں <mark>کر</mark>تی میرے نزدیک اس <mark>وقت</mark> تک حقیقی طور پر جماعت کوئی کام نہیں <mark>کر</mark> سکتی۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے متعلق <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> یہ <mark>سمجھتا</mark> ہے کہ وہ <mark>ان</mark> کے مفہوم کو اچھی طرح ج<mark>ان</mark>تا ہے لیکن جب اس پر جرح کی جائے اور کسی بات کی باریکیاں اس سے دریافت کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے اس نے بات کو صحیح طور پر نہیں سمجھا اور اگر سمجھا بھی ہے تو محض سطحی رنگ میں۔<mark>مجھے</mark> بھی یقین ہے کہ ابھی تک جماعت کے اکثر افراد نے اس <mark>تحریک</mark> کا مفہوم نہیں سمجھا حال<mark>ان</mark>کہ اس کے متعلق میں نے اتنے خطبے پڑھے ہیں کہ اس سے پہلے کسی اور بات کے متعلق میں نے اتنے خطبے کبھی نہیں پڑھے۔لیکن باو<mark>جو</mark>د اس قدر تفصیل سے <mark>تحریک</mark> <mark>جدید</mark> کو بی<mark>ان</mark> <mark>کر</mark>نے کے <mark>مجھے</mark> وہم ہے کہ جماعت کے اکثر افراد ایسے ہیں جنہوں نے اس کے مفہوم اور <mark>اہم</mark>یت کو ابھی تک نہیں سمجھا۔اور اگر وہ سمجھ جاتے تو <mark>یقیناً</mark> میں <mark>ان</mark> میں ایسا تغیر دیکھتا <mark>جو</mark> <mark>مجھے</mark> ابھی تک نظر نہیں آ رہا۔عام طور پر دوست یہ خیال <mark>کر</mark>تے ہیں کہ احراری فتنہ کو دیکھ <mark>کر</mark> اس کے استیصال کیلئے چند <mark>وقت</mark>ی باتیں میں نے بی<mark>ان</mark> <mark>کر</mark> دی ہیں۔حال<mark>ان</mark>کہ اس کا موجب احرار فتنہ نہیں بلکہ حقیقت یہی ہے کہ احرار کا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بہ<mark>ان</mark>ہ بنا دیا ہے کیونکہ ہر <mark>تحریک</mark> کے جاری <mark>کر</mark>نے کیلئے ایک <mark>موقع</mark> کا <mark>ان</mark>تظار <mark>کر</mark>نا پڑتا ہے اور جب تک وہ <mark>موقع</mark> میسر نہ ہو جاری <mark>کر</mark>دہ <mark>تحریک</mark> مفید نتائج پیدا نہیں <mark>کر</mark> سکتی۔بے شک مخلص لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ جب بھی <mark>ان</mark> کے سامنے بات <mark>پیش</mark> کی جائے وہ اس پر توجہ <mark>کر</mark>تے ہیں، مگر عام جماعت میں بیداری پیدا <mark>کر</mark>نے اور کمزوروں کو بھی متوجہ <mark>کر</mark> نے کیلئے کسی <mark>خاص</mark> <mark>موقع</mark> کا <mark>ان</mark>تظار <mark>کر</mark>نا پڑتا ہے۔<mark>مجھے</mark> بھی سالہا سال سے یہ <mark>ان</mark>تظار تھا کہ کوئی ایسی آگ لگے جب ہماری جماعت کا ہر چھوٹا بڑا بیدار ہو جائے۔اور اس <mark>موقع</mark> پر میں وہ <mark>تحریک</mark> <mark>پیش</mark> <mark>کر</mark>وں