انوارالعلوم (جلد 14) — Page 77
انوار العلوم جلد ۱۴ زنده خدا کا زنده نشان کے متعلق بھی لوگ شکوک پیدا کرتے رہتے ہیں لیکن جتنی وضاحت اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق خدا کے فرستادوں کے کلام میں ہوتی ہے، دیدہ بینا کیلئے اس پیشگوئی میں موجود ہے۔ تعبیر کے علم سے چونکہ اکثر لوگ واقف نہیں ہوتے ، اس لئے اس کشف کے سمجھنے میں بعض لوگوں کو دقت ہو تو ہو ورنہ اگر علم تعبیر کی کتابوں سے اس کی تعبیر کر کے کسی نا واقف شخص کے سامنے بھی اس کشف کو رکھ کر دیکھا جائے ، تو وہ فوراً اسے مولوی عطاء اللہ صاحب کے واقعہ پر چسپاں کر دے گا ۔ مثلاً ایک ایسے شخص سے جو مولوی عطاء اللہ صاحب ء اللہ صاحب کے حالات ۔ حالات سے واقف ہو کہو کہ ایک شخص ہے جس نے ایک مذہبی سلسلہ کے مرکز میں جا کر پُر زور تقریریں کیں اور اس سلسلہ کے خلاف حکومت کو اکسایا اور وہ اس میں کامیاب ہو گیا ، حکومت اس سلسلہ پر بدظن ہو گئی ۔ پھر دوبارہ وہ اسی جگہ پر اس لئے جانے کیلئے آمادہ ہوا کہ اس سلسلہ کی مذہبی حیثیت کو بھی گرادے مگر اس دفعہ حکومت کے ایک قانون سے اس کے ارادہ کا ٹکراؤ ہو گیا۔ لیکن حکومت ابھی اپنے قانون کو استعمال کرنے سے ہچکچاتی تھی کہ اتنے میں اس سلسلہ کے ایک شخص نے ان عذرات کو جن کی وجہ سے حکومت ہچکچاتی تھی توڑ دیا اور حکومت نے اس باہر سے آنے والے شخص کو گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کر دیا اور عدالت نے سرسری تحقیق کر کے جاتے ہی اسے چار ماہ کی قید کی سزا دے دی ۔ اب تم بتاؤ کہ یہ شخص کون ہے؟ تو میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ شخص ہلا اختیار بول اُٹھے گا کہ یہ تو مولوی عطاء اللہ صاحب کا واقعہ ہے۔ پھر ایسی واضح اور بین پیشگوئی کے بعد اب آپ لوگ اور کس نشان کی انتظار میں ہیں ۔ احرار کی مخالفت صداقت حضرت مسیح موعود ذرا غور تو کریں کہ وہی امر جے سلسلہ احمدیہ کی ہتک کا موجب علیہ السلام کا ثبوت بن گئی بنایا جا رہا تھا اسے اللہ تعالیٰ نے کس طرح سلسلہ احمدیہ کی سچائی ثابت کرنے کا ذریعہ بنا دیا اور ایک بین نشان کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ گویا بالکل اسی طرح ہوا جس طرح بانی سلسلہ احمدیہ کو ایک اور رویا میں دکھایا گیا تھا کہ کسی شخص نے آپ کی طرف ایک سانپ بھیجا ہے جسے آپ نے تلا تو وہ مچھلی بن گیا۔ کے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ سب تحریک احرار نے سلسلہ احمد یہ کو ضعف پہنچانے کیلئے شروع کی تھی۔ گویا ایک سانپ احمدیت کو ڈسنے کیلئے بنایا گیا تھا لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے وہی سانپ مچھلی بن کر سلسلہ کی ترقی کا موجب اور اس کی صداقت کا ایک ثبوت بن گیا۔