انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 69

انوار العلوم جلد ۱۴ زنده خدا کا زنده نشان رہے تھے اور احرار جگہ بہ جگہ جلسے کر کے یہ شور مچا رہے تھے کہ مسجد شہید گنج کا پیچھا چھوڑ ؤ اصل کام احمدیت کی مخالفت ہے اس کی طرف توجہ توجہ کرو اور روز روز نئے نئے نئے الزام تراش کر کر لوگوں میں مشہور کر کر رہے تھے۔ اُن الزامات میں سے دوالزام یہ تھے کہ احمدی رسول کریم ﷺ کی بہتک کرتے ہیں اور آپ کے (فِدَاهُ نَفْسِی وَرُوحِی درجہ کو بانی سلسلہ احمدیہ کے درجہ سے نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذالک ادنی سمجھتے ہیں۔ اور قادیان کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے افضل خیال کرتے ہیں ۔ احرار کو مباہلہ کا چیلنج اس جھوٹ اور افتراء کی انہوں نے اس قدر شاعت کی کہ میں نے مناسب سمجھا کہ اس کی تردید کردوں کیونکہ گو یہ دونوں باتیں بالبداہت غلط اور احرار کے مفتریات میں سے ہیں لیکن پھر بھی بعض نا واقف لوگوں کو دھوکا لگنے کا امکان ہو سکتا تھا۔ میں نے جہاں ان اعتراضات کی تردید کی وہاں یہ بھی شائع کیا کہ اگر احرار کو اس الزام پر اصرار ہے تو وہ مجھ سے لاہور یا گورداسپور میں مباہلہ کر لیں اور دونوں فریق پانچ پانچ سو یا ہزار ہزار آدمی جیسا بھی فیصلہ ہو ہمراہ لائیں ۔ اور تصفیہ شرائط کے بعد تاریخ مقرر کی جائے ۔ احرار نے جب میرا یہ اعلان پڑھا تو سمجھے کہ اب اس ذریعہ احرار کی بہانہ سازی سے ہم مسلمانوں میں جوش پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر چونکہ حکومت نے فساد کے خوف سے احرار کیلئے اس سال قادیان میں کانفرنس منعقد کرنا ممنوع قرار دیا ہوا تھا۔ انہوں نے مباہلہ کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے یہ شرط لگا دی کہ مباہلہ قادیان میں ہو۔ میں نے اس شرط پر اس امر کو بھی منظور کر لیا کہ اگر احرار کو لاہور یا گورداسپور پر کوئی خاص اعتراض ہو تو مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں لیکن باقی شرطوں کیلئے دونوں فریق کے نمائندے اکٹھے ہو کر ایک تصفیہ کر لیں ۔ اس کے پندرہ دن بعد کی کوئی تاریخ مباہلہ کیلئے مقرر کی جائے۔ چونکہ احرار کی غرض مباہلہ کرنا نہ تھی بلکہ دوغرضوں میں سے ایک غرض تھی یا تو یہ کہ قادیان میں حکومت ان کو جانے نہ دے گی اور اس طرح مباہلہ کا پیالہ ان سے مل جائے گا اور یا پھر یہ کہ اس بہانہ سے وہ قادیان جا کر کانفرنس کر سکیں گے اور اس طرح لوگوں میں فخر کر سکیں گے کہ دیکھو با وجود حکومت کے روکنے کے ہم کا نفرنس کر آئے ہیں ۔ میں نے جب بار بار تصفیہ شرائط پر زور دیا تو بجائے شرائط کا تصفیہ کرنے کے مظہر علی صاحب اظہر