انوارالعلوم (جلد 14) — Page 68
انوار العلوم جلد ۱۴ پندرہ منٹ تک اپنی صحبت میں بیٹھنے کی سزادی یہ فیصلہ کیا تھا۔ زنده خدا کا زنده نشان اکتوبر ۱۹۳۴ ء کی احرار کا نفرنس کا زیادہ بھیانک الفاظ میں خلاصہ تھا، اس کی کارروائی کی صحت پر مہر تصدیق تھا اور اس امر کا اظہار تھا کہ احمد یہ جماعت در حقیقت حکومت میں ایک حکومت ہے اور ملک کے امن کیلئے خطرہ ۔ احرار نے اس فیصلہ کو پڑھا اور اپنی دی ہوئی گالیاں عدالت کی قلم سے سُن کر جامے میں پھولے نہ سمائے ۔ انہوں نے اس فیصلہ کو لاکھوں کی تعداد میں مختلف زبانوں میں دنیا میں شائع کیا اور سمجھے کہ ہم نے ایک طرف حکومت اور احمدی جماعت کے تعلقات کو بگاڑ دیا ہے تو دوسری طرف تعلیم یافتہ طبقہ کو اس فیصلہ کے ذریعہ سے احمدیت سے بدظن کر دیا ہے مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ: تدبیر کند بنده تقدیر زند خنده انسان ایک سازش کرتا ہے مگر خدا کی تقدیر اسے مٹانے کی تیاریاں کر رہی ہوتی ہے۔ جب احرار اپنی کامیابی پر خوش ہو رہے تھے ۔ وہ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ خدا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث کیا ہے، دشمن کے ہاتھوں ہی سے آپ کی سچائی کے ثبوت کیلئے ایک زبردست گواہی تیار کروا رہا تھا۔ سچ ہے کہ جسے خدا ر کھے اسے کون چکھے ۔ احرار اس خوشی میں پھولے نہیں احرار کی ذلت کیلئے خدا تعالیٰ کی تدبیر تھے کہ اچانک شہید گنج کا سماتے تھے واقعہ ہو گیا۔ احرار نے جمہور مسلمانوں کا اس مسئلہ میں ساتھ نہ دیا۔ اور مسلمانوں کو اپنے دفتر کے سامنے گولیاں کھاتے ہوئے دیکھ کر ان کی راہنمائی کیلئے قدم نہ اٹھایا۔ بس پھر کیا تھا ان کی حقیقت کے رخ پر سے نقاب اُٹھ گئی اور مسلمانوں نے انہیں ان کے اصلی روپ میں دیکھ کر اس قد ر ا ظہار نفرت کیا کہ تاریخ شاید ایسی شدید نفرت کی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر ہوگی ۔ احرار نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ نے ان کی حقیقت کو ظام جب احرار ظاہر احرار کا دوبارہ حملہ کر کے انہیں مسلمانوں کی نظروں میں گرا دیا ہے تو انہوں میں نے ہے ایسی راہیں تلاش کرنی شروع کیں کہ جن پر چل کر وہ اس مصیبت سے نجات حاصل کر سکیں ۔ آخر یہی فیصلہ کیا کہ سب سے آسان اور سب سے نافع ترین یہی بات ہے کہ احمدیت پر پھر سے ایک حملہ کر دیا جائے ۔ چنانچہ دوسرے مسلمان تو اپنے جلسوں میں احرار کی غداری پر اظہار نفرت کر میں