انوارالعلوم (جلد 13) — Page 69
انوار العلوم جلد ۱۳ ۶۹ برادر ان کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کے دو مکتوب کشمیر کا خون مرزا صاحب نے چوس لیا ہے اور لوگوں سے بڑی رقوم جمع کر کے اپنے وکلاء کو دلوائی ہیں اور یہ کہ احمدی وکلاء خود غرضی سے سب کام کرتے تھے اور پھر یہ کہ کشمیر کمیٹی کے پردہ کے نیچے احمدیت کی اشاعت ان کے کارکن کرتے رہے ہیں ۔ آپ لوگ جانتے ہیں کہ یہ سب باتیں جھوٹ افتراء اور بہتان ہیں ۔ نہ کشمیر کمیٹی کے کارکنوں نے احمدیت کی تبلیغ کی نہ ہم نے کشمیر سے رقوم فراہم کر کے کشمیر کے لوگوں کا خون چوسا اور نہ احمدی وکلاء کو مالا مال کیا ۔ وہ غریب آپ لوگوں کی خاطر چلتی ہوئی پریکٹسوں کو چھوڑ کر وہاں گئے اور مہینوں اپنے بیوی بچوں سے جدا رہ کر ہر قسم کی تکالیف برداشت کر کے انہوں نے آپ کی خدمت کی ۔ پھر یہ صلہ جو انہیں دیا گیا ، کیا اس کے بعد آپ لوگوں کی خدمت کرنے کا کسی کو خیال آ سکتا ہے؟ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ایسا نہیں کیا، ہم میں سے بعض غداروں نے ایسا کیا ۔ مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے جماعتی رنگ میں ان غداروں کا فریب ظاہر کیا ؟ نہیں آپ نے ایسا بھی نہیں کیا ۔ بلکہ تازہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے ان میں سے بعض غداروں کو اپنا لیڈر بنایا ہے ۔ پس جب کہ آپ لوگوں کا یہ رویہ ہے آپ کب امید کر سکتے ہیں کہ کوئی شریف آدمی آپ کی مدد کرے گا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ریاست کے افسروں نے بعض مسلمانوں کو خریدا ہوا ہے اور وہ ان کے ذریعہ سے آپ کی حاصل کی ہوئی طاقت کو ضائع کرانا چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اب آپ ناک رگڑ کر حکومت سے معافی مانگیں اور اور بے قصور ہو مور ہوتے ہوئے اپنے قصوروں کا اعتراف کریں۔ اس طرح کی آزادی کیلئے کسی لیڈر کی ضرورت نہیں ایسی معافی تو آپ میں سے ہر ایک حاصل کر سکتا ہے۔ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لو، پھر سب کچھ درست ہو جائے گا۔ لیکن اگر آپ لوگ دیانتداری سے کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا آپ کے لیڈروں نے کوئی قصور کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو انہیں مجبور کرو کہ تو بہ کریں اور حکومت سے معافی مانگیں اور اگر قصور نہیں کیا تو پھر ایک ہی را راستہ آپ کے لیڈروں کیلئے اور آپ کیلئے کھلا کہ امن اور نرمی کے ساتھ اپنے دعوئی پر مصر رہیں اور خدا پر توکل کرتے ہوئے ذلت اور رسوائی کو قبول کرنے کی جگہ موت کو ترجیح دیں کیونکہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت اچھی ہوتی ہے۔ حکومت کے ظالم افسر آپ کی جان لے سکتے ہیں لیکن عزت نہیں چھین سکتے ۔ عزت آپ لوگ اپنے ہی ہاتھوں برباد کر سکتے ہیں اور ہر ایک شریف آدمی کو اس سے پر ہیز کرنا چاہئے ۔ غرض اگر آپ لوگ مجھ سے مشورہ پو مجھ سے مشورہ پوچھیں تو میں کہوں گا کہ اگر آپ کی غلطی ہے تو اپنی غلطی کا بھلا ہے