انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 68

انوار العلوم جلد ۱۳ ۶۸ برادرانِ کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کے دو مکتوب اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ۔ هُوَ النَّاصِرُ برادرانِ کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کا مکتوب اول برادران ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دینے کے بعد اس قدر جلد آپ لوگوں پر پھر ایک دردناک مصیبت نازل ہو گئی ہے اور جب کہ آپ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے تھے مشکلات کا دروازہ از سرِ نو گھل گیا ہے۔ میں نے آپ لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ جب تک آپ لوگ مجھے اپنی مدد کیلئے بلائیں گے میں اپنی طاقت بھر آپ کی مدد کروں گا اور یہ وعدہ مجھے خوب یاد ہے۔ اسی وعدہ کو یاد کرتے ہوئے میں نے میر واعظ صاحب ہمدانی کو تار دیا تھا کہ میں اہلِ کشمیر کیلئے ہر ممکن کوشش کروں گا اور کرنی شروع کر دی ہے ۔ جو کچھ مختصراً میں نے اس تار میں لکھا تھا اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے ولایت بھی ہدایات بھجوا دی ہیں کہ وہاں کے ذمہ دار لوگوں کو صحیح حالات سے آگاہ کر کے کشمیر کے حالات کی طرف متوجہ کیا جائے اور خود ریاست کو بھی اس طرف توجہ دلائی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ جب مسٹر کالون کو صحیح ۔ حالات سے واقف واد کیا جائے گا تو وہ اس ظلم کو جو اُن کے نام پر کیا گیا ہے ضرور دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ اے بھائیو! آپ کو معلوم ہے کہ میں اب کشمیر کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہو چکا ہوں اور اس وجہ سے میں گل مسلمانوں کی طرف سے حکومت کو مخاطب نہیں کر سکتا ۔ صرف میرا ذاتی اثر کام کر سکتا ہے اور جب کہ آپ لوگوں کی طرف سے بھی مجھے کوئی اختیار حاصل نہیں کہ میں حکومت کو مخاطب کروں ، اِس لئے میری آواز نہ ہندوستان کی آواز ہوگی نہ کشمیر کی آواز ۔ پس اگر اس کا نتیجہ اس قدر جلد یا پُر شوکت نہ نکلے جس کی آپ کو امید ہے ، تو اس کا الزام آپ اپنے نفسوں کو دیں کیونکہ آپ ہی میں سے کچھ لوگ پنجاب آ کر مسلمانوں کے سامنے یہ جھوٹ بولتے رہے ہیں کہ