انوارالعلوم (جلد 13) — Page 432
انوار العلوم جلد ۱۳ 432 سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان جواب: اس شرط کے ساتھ جو پہلے بیان کر چکا ہوں ۔ سوال: انوار الاسلام مرزا صاحب کی کتاب ہے؟ جواب: ہاں سوال: کئی آدمی ایسے ہیں جو پہلے آپ کے ساتھ شامل تھے پھر اوروں کے ساتھ جا شامل ہوئے ۔ جواب: ہر سال چار پانچ چھ ہزار مرد میری جماعت میں داخل ہوتے ہیں اور جانے والے سال میں دو چار ہوتے ہونگے اور کبھی نہیں بھی ہونگے ۔ سوال: جب قادیان میں احرار کا احرار کا نفرنس ہوئی تو آپ نے بُرا ما نا اس وجہ سے کہ آپ کے آدمی ان میں شامل نہ ہو جائیں ؟ جواب: میں اس وجہ سے کس طرح برامان سکتا تھا جب کہ ہماری جماعت کے متعلق گورنمنٹ کا آرڈر تھا کہ وہاں کوئی نہ جائے ۔ میں نے تو شکوہ کیا تھا کہ کا نفرنس اگر ہمارے لئے کی گئی تھی تو ہمیں جانے سے کیوں روکتے تھے اور کیوں نہ جانے دیا۔ سوال: سید اپنے آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کہلاتے ہیں یہ ٹھیک ہے؟ جواب: چند ایک سید اپنے متعلق نواسے کا لفظ فخراً استعمال کرتے ہیں باقی نہیں ۔ ہاں یوں تو ہی سید ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کی اولاد ہا ہیں ۔ سارے سوال: آپ کو معلوم ہے کہ احرار کے پاس کچھ سرمایہ ہے؟ جواب: مجھے کیا پتہ ہے۔ سوال: آپ کے پاس قادیان میں انصاف کا محکمہ ہے؟ جواب: انصاف کے محکمہ سے آپ کی کیا مراد ہے ۔ سوال: جہاں جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ جواب: ایسے جھگڑے جو قابلِ دست اندازی پولیس نہیں ہوتے ہمارے پاس آ جائیں تو ان کیلئے فیصلہ کرنے والے مقرر کر دیئے جاتے ہیں تا کہ وہ طے کر دیں اور جو پولیس کی دست اندازی کے قابل ہوں اُن کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے پولیس میں لے جائیں ۔ سوال: اس کے لئے کوئی محکمہ قائم کیا ہوا ہے؟ جواب: ہاں ۔ محکمہ قضاء ہے ۔