انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 158

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۵۸ رحمة للعالمين ہے کسی خاص قوم کا رب نہیں وہ ظالم نہیں اور ہوشیار کرنے کے بغیر سزا نہیں دیتا ۔ پھر کس طرح ہو سکتا تھا کہ اس کے عذاب تو ہر ملک میں آتے لیکن نبی ہر ملک میں نہ آتے ؟ خدا تعالیٰ کی کوئی زبان نہیں ۔ وہ زبانوں کا پیدا کرنے والا ہے اس کا الہام بندوں کی زبان میں نازل ہوتا ہے جس قوم کو وہ مخاطب کرتا ہے اسی کی زبان میں وہ کلام کرتا ہے۔ کہ لوگ اس کی نازل کردہ ہدایتوں کو سمجھیں ۔ خدا کے سب نبی برگزیدہ اور پاک تھے۔ ان میں تمہارے لئے نمونہ ہے جوان میں سے ایک کا بھی انکار کرتا ہے خدا تعالیٰ کی درگاہ سے راندہ جاتا ہے اور جوان کے نقش قدم پر چلتا ہے برکت پاتا ہے اور ہدایت حاصل کرتا ہے۔ میری روح اس آواز کو سن کر خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گر گئی اور میں نے کہا اے پیارے مالک ! اگر یہ آواز تیری طرف سے بلند نہ ہوتی تو میں تو تباہ ہو جاتا۔ مجھے تو نے حُسن کو پہچاننے کا مادہ دیا ہے ۔ اندھا حُسن سے بے خبر رہ کر دنیا کی اس کیفیت سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکتا تھا جو میں نے دیکھی لیکن میں جسے تو نے آنکھ دی تھی اگر اس آواز کو نہ سنتا تو دیوانہ ہو جاتا پاگلوں کی طرح کپڑے پھاڑ کر جنگلوں میں نکل جاتا، مجھے تو کرشن را مچند در بدھ زردتشت، موسیٰ " ، عیسی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ میرے لئے یہ عقدہ لا يَنْحَلُ تھا کہ حسن موجود ہے لیکن لوگ اسے نہیں دیکھتے مگر تیرا شکر اور احسان ہے کہ تو نے اس آواز کو بلند کیا۔ میرا دل اس وقت اس آواز والے کی محبت سے بھی اس قدر لبریز ہوا کہ میں نے سمجھا میرے صبر کا پیالہ ابھی چھلک جائے گا ۔ میرے سینہ سے پھر ایک آہ نکلی اور میں نے کہا کہ یہ آواز تو سب دنیا کے بزرگوں کیلئے ایک رحمت ثابت ہوئی اور میں نے بیتاب ہو کر اس آواز کے مالک کے دامن کو پکڑنا چاہا۔ لیکن میرے اور اس ۔ کے درمیان تیرہ صدیوں کا پردہ حائل تھا۔ ایک قابو میں نہ آنے والا ماضی ایک بے بس کر دینے والا گزشتہ زمانہ ۔ آہ! اے عزیز و ! میں تم کو کیا بتاؤں اس وقت میرا کیا حال تھا۔ ایک پیاس سے مرنے والے آدمی کے منہ سے پانی کا گلاس لگا کر جس طرح کوئی روک لے وہ اس کی خنکی کو تو محسوس کرے لیکن اس کی تراوت اس کے حلق کو نہ پہنچے بالکل میرا یہی حال تھا۔ مجھے یوں معلوم ہوتا تھا اس آواز کا صاحب بالکل میرے پاس ہے اور باوجود اس کے اُس کے اور میرے درمیان تیرہ صدیوں کا لمبا بعد تھا میں اس کے دامن کو چھوتا تھا مگر پھر بھی پکڑ نہیں سکتا تھا۔ اُس وقت میرا دل چاہتا تھا کہ اگر مجھے داؤ د نبی مل جائیں تو میں انہیں پکڑ کر گلے لگا لوں اور پھر خوب روؤں وہ مستقبل کے گلے کریں اور میں ماضی کے شکوے ۔ کیونکہ انہیں اس امر کا شکوہ تھا کہ وہ اس محبوب سے تیرہ سو سال پہلے کیوں پیدا ہو گئے؟