انوارالعلوم (جلد 13) — Page 157
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۵۷ رحمة للعالمين سکتا ہے خدا تعالیٰ کی زبان بھی عبرانی ہے اور جنت کی زبان بھی عبرانی اور فرشتے بھی عبرانی زبان ہی بولتے ہیں اور ان لوگوں کا دعویٰ تو سنسکرت اور پراکرت اور پہلوی زبانوں میں الہام کا ہے ان کے دعوے تو بالبداہت غلط ہیں ۔ بعض لوگوں نے احتجاج کیا کہ شیطان کی زبان بھی تو آپ کے نزدیک عبرانی تھی۔ پھر جب شیطان سنسکرت، پراکرت اور پہلوی جاننے والوں کے دلوں میں وسو سے ڈال لیتا تھا تو فرشتے نیک باتیں کیوں نہیں ڈال سکتے تھے؟ اور جب کہ وہ لوگ بھی خدا تعالیٰ کی مخلوق تھے تو ان کے لئے خدا تعالیٰ نے کیا کیا ؟ مگر انہوں نے ان باتوں کی طرف توجہ نہ کی اور کہا سب مخلوق ایک سی نہیں ہوتی ۔ ہم خدا کی چنیدہ قوم ہیں، ہم اور دوسرے برابر نہیں ہو سکتے ۔ میرا دل پھر اندر ہی اندر بیٹھنے لگا ۔ مجھے پھر نور غائب ہوتا ہوا اور تاریکی پھیلتی ہوئی نظر آئی اور میں افسردہ دلی سے مسیحیوں کی طرف مخاطب ہوا۔ میں نے عالم خیال میں ان سے بھی مسیح کے متعلق سوال کیا اور انہوں نے جو حالات ان کے سنائے وہ ایسے درد ناک تھے کہ میری آنکھوں میں بار بار آنسو آ جاتے تھے میں نے کہا بیشک یہ بزرگ بھی بالکل دوسری اقوام کے بزرگوں کی طرح بہت بڑے پایہ کے تھے مگر میری اس بات سے خوش ہونے کی بجائے وہ لوگ ناراض ہوئے اور کہا کہ آپ دوسرے بزرگوں کا ذکر نہ کریں یہود سے باہر تو کوئی بزرگ ہوا ہی نہیں اور یہود کے بزرگ بھی گو خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے مگر سب کے سب گنہگار تھے ۔ صرف خدا ماوه آدم سے لے کر ملا کی تک بلکہ يحي تک ایک بھی پاک نفس نہیں گذرا پاکیزگی صرف کے بیٹے کو حاصل ہے جو مسیح کے رنگ میں ظاہر ہوا۔ میں نے کہا اور باقی قو میں ؟ انہوں نے کہا وہ مسیح پر ایمان لا کر بچ سکتی ہیں۔ میں نے کہا۔ مسیح کے بعد کے لوگ تو اس طرح بچ سکتے ہیں پہلے لوگ کرشن، رامچندر بدھ اور زردتشت جیسے لوگ ؟ وہ نیکیوں کے مجسمے، وہ تقویٰ کی جیتی جاگتی تصویر یں ان کا کیا حال ہے؟ انہوں نے افسوس سے سر ہلایا اور کہا کوئی ہونجات وہی پائے گا جو مسیح کی بیگناہ موت پر ایمان لاتا ہے ۔ چونکہ مسیح کی قوم آخری قوم تھی میرا دل مایوسی سے بھر گیا اور میں نے کہا خدایا ! یہ کیا بات ہے تو نے حُسن ہر جگہ پیدا کیا ہے لیکن ہر جگہ کی قوم دوسری جگہ کے حُسن کو نہیں دیکھ سکتی ۔ کیا یہ حسن ہی نہیں جسے میں حُسن سمجھ رہا ہوں ۔ یا لوگوں کی نظروں کو کچھ ہو گیا ؟ میں اسی خیال میں تھا کہ پھر مجھے وہی پیاری آواز وہ مشکل کشا آواز وہ سیدھا راستہ دکھانے والی آواز بلند ہوتی سنائی دی ۔ اس نے کہا سنو اے دنیا کے بھولے ہوئے لوگو! دنیا کی کوئی قوم نہیں جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی نہ آئے ہوں ۔ اے خدا تعالیٰ رَبُّ الْعَلَمِينَ