انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 593

انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۹۳ بعض اہم اور ضروری امور آتا ہوں۔ جب چیلے کو پھانسی پر لٹکانے لگے تو گر و دوڑتا ہوا جا کر کہنے لگا۔ میرا حق ہے، پھانسی میں چڑھوں گا۔ میں اسی دن کے لئے تو عبادت کرتا رہا ہوں۔ چیلا کیے۔ نہیں میں چڑھوں گا۔ ان دونوں کو راجہ صاحب کے پاس لے گئے۔ کہ یہ کہتے ہیں آج جو پھانسی پر چڑھے گا سیدھا سورگ میں جائے گا۔ راجہ نے کہا۔ یہ میرا حق ہے میں پھانسی پر چڑھوں گا۔ اس طرح راجہ پھانسی پا گیا۔ اسی قسم کا حق وہ مسلمان مانگتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ مشترکہ انتخاب ہمارا حق ہے۔ جہاں مسلمانوں میں ایسا طبقہ ہو جو پھانسی کو اپنا حق سمجھے اس کے متعلق سمجھ سکتے ہو ، اس کی کتنی درد ناک حالت ہے۔ بہر حال مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ خواہ ہم کتنی خدمت کریں وہ یہی کہیں گے کہ یہ قومی غدار ہیں۔ مگر ہمیں ایسی باتوں کی کوئی پروا نہیں کرنی چاہئے بلکہ دیانت داری کے ساتھ اپنے کام پر قائم رہنا چاہئے اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے کوشش کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا چاہئے۔ بھی تمام اقوام کے حقوق کی حفاظت مال اور اس کی فرض ہو یا کو اور نام کے عالم مسلمان مل کر بھی چاہیں کہ غیر قوموں کے متعلق عدل و انصاف کو مد نظر نہ رکھا جائے تو ہم بالکل انکار کر دیں ۔ ہم رَبُّ الْعَلَمِینَ کے خلیفہ ہیں اس نے ہماری جماعت کو اس لئے قائم کیا ہے کہ ہم دنیا میں حق اور عدل کو قائم کریں اس وجہ سے ہمارا فرض ہے کہ تمام اقوام کے حقوق کی حفاظت کریں خواہ وہ ہم سے لڑہی رہی ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت کوئی ایسا معاملہ پیش آ جائے جس سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہو لیکن کسی دوسری قوم سے نا انصافی ہوتی ہو اس وقت گو ہمیں بہت مشکل پیش آئے گی لیکن ہمارا فرض ہو گا کہ نا انصافی کرنے والوں کا ساتھ نہ دیں بلکہ جن کا حق مارا جاتا ہو ان کی امداد کریں۔ تیسری مشکل یہ ہے کہ بغاوت اور قانون شکنی قانون شکنی کرنے والوں سے مقابلہ کرنے والوں کے جب ہم خلاف ہوں گے تو وہ ہمارے بھی دشمن ہو جائیں گے اور کہیں گے یہ غدار ہیں۔ مگر ان تمام مشکلات سے گزرتے ہوئے ہمارا فرض ہے کہ راستی کو قائم کریں۔ ہم خدا تعالی کے ایک مأمور کے ماننے والے ہیں اور وہ کسی خاص قوم سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ساری دنیا سے تعلق رکھتا ہے اور ساری دنیا کے