انوارالعلوم (جلد 12) — Page 592
انوار آهن مجله ۱۲ ۵۹۲ بعض اہم اور ضروری امور حفاظت کریں مگر مشکل یہ ہے کہ اس میں خود مسلمان روک بنیں گے۔ مسلمانوں میں چونکہ تعلیم کم ہے اور عام لوگ سیاسیات سے واقف نہیں اس لئے بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس بات میں ان کا نقصان ہوتا ہے اسے اپنا حق قرار دے لیتے ہیں جیسا کہ ایک جماعت کہتی ہے مشتر که انتخاب ہمارا حق ہے یہ ہمیں ملنا چاہئے۔ ایک قصہ مشہور ہے۔ کہتے ہیں ایک گرو اپنے چیلے کو لے کر ایک گرو اور چیلے کا قصہ جگہ بہ جگہ پھر رہا تھا۔ ایک مقام پر جب وہ گئے تو وہاں انہیں معلوم ہوا کہ یہاں ہر چیز کے سیر بکتی ہے۔ چیلے نے کہا یہاں ٹھہرنا چاہئے یہ خوب مزا ہے کہ جو چیز چاہو کے میر لے لو۔ گرو نے سمجھایا کہ جہاں ایسا اندھیر ہو وہاں نہ معلوم اور کیا کچھ ہو گا مگر چیلے نے کہا اور کیا ہو سکتا ہے یہاں ہی ٹھہریئے۔ کچھ عرصہ کے بعد راجہ کو رپورٹ کی گئی کہ ایک آدمی دیوار کے نیچے آکر مر گیا ہے۔ راجہ نے کہا یہ خون ہوا ہے اس کے بدلے دیوار کو پھانسی دے دی جائے۔ کہا گیا دیوار کو کس طرح پھانسی دی جائے۔ راجہ نے کہا دیوار کو نہیں تو دیوار کے مالک کو پھانسی دے دو۔ اس پر دیوار کے مالک کو پکڑ لائے۔ جب اسے پیش کیا گیا تو اس نے کہا مہاراج میرا کیا قصور ہے، دیوار راج نے خراب بنائی تھی اس لئے گر گئی۔ راجہ نے کہا ٹھیک ہے قصور راج کا ہے اسے پکڑ کر لاؤ۔ جب اسے لایا گیا تو اس نے کہا میرا کیا قصور ہے گارا خراب تھا اس میں سقہ نے پانی زیادہ ڈال دیا تھا۔ راجہ نے کہا سقہ گرفتار کر کے لایا جائے۔ جب وہ لایا گیا تو اس نے کہا اس وقت پاس سے ایک عورت گزر رہی تھی جسے ایک مرد اشارے کر رہا تھا، میں ان کی طرف دیکھنے لگ گیا اور مشک کا مونہ بند کرنا بھول گیا۔ اس پر عورت کو لایا گیا۔ اس نے کہا میرا کیا قصور ہے ، مجھے فلاں مرد اشارے کر رہا تھا۔ اس مرد کو پکڑ کر منگایا گیا اسے کوئی عذر نہ سوجھا۔ اس پر فیصلہ کیا گیا کہ اسے پھانسی دے دی جائے۔ جب پھندا اس کے گلے میں ڈالا گیا تو وہ کھلا تھا۔ اس کی اطلاع راجہ صاحب کو دی گئی۔ انہوں نے کہا اسے چھوڑ دیا جائے اور کوئی موٹا آدمی پکڑ لیا جائے جس کی گردن پھندے میں پوری آسکے ۔ وہ چیلا مٹھائیاں ۔ کھا کھا کر بہت موٹا ہو چکا تھا اسے پکڑ لیا گیا۔ اس نے پوچھا۔ کوئی قصور بتاؤ ۔ کہا گیا۔ یہی قصور ہے کہ تمہاری گردن پھندے میں پوری آئے گی۔ اس نے کہا۔ اچھا جس طرح مرضی ہو کرو مگر مجھے اپنے گرو سے مل لینے دو۔ جب وہ گرو سے ملنے گیا تو اس نے کہا۔ میں نہ کہتا تھا یہاں نہ ٹھرو ۔ چیلے نے کہا۔ اب تو میں پھنس گیا کسی طرح نکالیں۔ گرو نے کہا۔ اچھا چلو میں بھی وہیں