انوارالعلوم (جلد 12) — Page 13
انوارالعلوم جلد ۱۲ ۱۳ بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت کھاتے ہیں۔ اس کے کے برعکس تھمب اعلیٰ درجہ کے کھانوں میں سے ہے اور گراں قیمت پر فروخت ہوتی ہے اور خاص طور پر اسے امراء کے لئے بویا جاتا ہے اور فرانس میں تو اس کی اس قدر کھپت ہے کہ پیرس میں ایک زمیندار دن میں تین سے تین ہزار پونڈ تک محمب منڈی میں فروخت کرنے کے لئے بھیجتا ہے۔ اور پھر یہ ہے بھی جلد اُگنے والی چیز ۔ چنانچہ انگریزی میں اس چیز کو جو جلد ہو جائے مشروم گروتھ (MASHROOM GROWTH) یعنی کھمب کی طرح پیدا ہونے والی کہتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جو کھانے سے تنگ ہوں ایسی ہی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جو جلد اگ آئیں اور جلد استعمال میں آسکیں۔ اب کیا یہ صاحبان بصیرت کے لئے عجیب بات نہیں کہ بائیبل کے کثیر نسخوں اور علم طبیعات کے ماہروں کی امداد کے باوجود یورپ بیسویں صدی میں جس نتیجہ پر " من " کے متعلق پہنچا ہے اور وہ بھی ناقص صورت میں ، اس کی اب سے تیرہ سو سال پہلے نہایت جامعیت کے ساتھ توضیح کر دی گئی تھی۔ میں جہاں تک مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے سمجھ احسان الہی سے ملنے والی غذا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے فضل چکا ہوں وہ یہ سے دشت سیناء میں کھمب ترنجبین اور ایسی ہی اور چیزیں جو جلد تیار ہو جاتی ہیں، پیدا کر دیں جن سے بنی اسرائیل کو باآسانی غذا ملنے لگی اور چونکہ اس کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی تھی اس غذا کا نام من یعنی احسان الہی سے ملنے والی غذا رکھا گیا۔ وہ ایک قسم کی غذا نہ تھی بلکہ کئی قسم کی غذا ئیں تھیں۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ کئی طرح کا من تھا۔ وہاں سب میں ایک مشابہت تھی اور وہ یہ کہ غذائیں ہل چلا کر اور محنت کر کے بنی اسرائیل کو پیدا نہیں کرنی پڑتی تھیں۔ لیکن چونکہ غذائیں اور بٹیر جو اس وقت کثرت سے اس جنگل میں آگئے تھے شکم میں قبض پیدا کرتے تھے ، اللہ تعالی نے ترنجبین بھی کثرت سے پیدا کر دی۔ جسے دوسری غذاؤں میں ملا کر کھانے سے ان کی صحت درست رہتی تھی۔ لہذا یہ حقیقت ہے کہ من جس کا کثرت سے ان ایام میں پیدا ہونا ایک معجزہ تھا، لیکن خود اس کا وجود اس دنیا کی چیزوں میں سے تھا وہ ایسی غذا تھی جسے ایک عرصہ تک کھایا جاسکتا تھا اور اس کی مصلح ترنجبین بھی ساتھ پیدا کر دی گئی تھی تاکہ جنگل کی خشک غذا صحت کو نقصان نہ پہنچائے۔ اس تشریح کے ساتھ سب سوال حل ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی کہ من کو لوگ دیر تک کس طرح کھاتے رہے اور یہ بھی کہ وہ سال بھر کس طرح ملتی رہتی تھی اور یہ بھی کہ وہ تیل کی