انوارالعلوم (جلد 12) — Page 12
انوار العلوم جلد ۱۲ ۱۲ بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت (۲) وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ اور ہم نے تم پر من اور سلوٹی اتارا تھا اور کہا تھا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے ، اس میں سے اعلیٰ اور پاکیزہ چیزوں کو کھاؤ۔ (۳) بخاری میں سعید بن زید کی روایت ہے - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَمَاةُ مِنَ الْمَنِّ له رسول کریم نے فرمایا کہ کھمب بھی " من " کی اقسام میں سے ہے۔ ترندی میں ابو ہریرہ سے روایت ہے - إِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا الْكَمْأَةُ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ و نبی کریم مسلم کے صحابہ میں سے بعض لوگ اعراب کے تو ہمات کے مطابق باتیں کر رہے تھے کہ تھمب زمین کی چیچک ہے۔ نبی کریم میں یا کریم که نے اس بات کو سن کر فرمایا کہ گھمب "من" کی اقسام میں سے ہے۔ اوپر کی آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نہیں نکلے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں نکلے تھے۔ (۴) جو چیز ان کے کھانے کے لئے مہیا کی گئی تھی وہ غذا کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ کی تھی اور ایسی نہ تھی جو غذائیت یا مزے کے لحاظ سے تکلیف دہ ہو ۔ (۵) جو چیز بنی اسرائیل کو کھانے کے لئے ملی تھی وہ ایک چیز نہ تھی بلکہ کئی چیزیں تھیں اور ان کئی چیزوں میں سے ایک کھمب بھی تھی۔ قصور ہے کہ وہ یہ ایک نہایت عجیب بات ہے کہ " من " کا ذکر قرآن کریم میں تین جگہ پر آیا ہے ایک سورۃ بقرۃ میں ایک اعراف میں اور طلا میں اور تینوں جگہ اس کے ذکر کے بعد كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ ا کا فقرہ ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس خیال کی تردید کرنا طبیعت پر بوجھ ڈالنے والا یا غذائیت کے لحاظ سے ادنیٰ قسم کا تھا۔ جیسا کہ ہم بچن (LICHEN) کی جس کا ذکر اوپر آچکا ہے، تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی کھمب کی کھیب کی قسم کا پودا ہے ۔ چنانچہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں لکھا ہے ۔ بچن اور کھمب کے اقسام بالکل آپس میں ملتے جلتے ہیں اور یہ امران اقسام کی مشابہت سے جو ایک دوسرے کی طبعی سرحد پر واقع ہیں بالکل ظاہر ہو جاتا ہے"۔ لالہ لیکن یہ امر ظاہر ہے کہ بچن خود اچھا کھانا نہیں ہے بلکہ قحط کے ایام میں مجبورا اسے لوگ