انوارالعلوم (جلد 12) — Page 485
انوارالعلوم جلد ۱۲ ۴۸۵ راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس اور مسلمان اس تمہید کے بعد میں اپنا خیال ظاہر کرتا ہوں۔ میرے نز نزدیک ہمیں ہر صحیح طریق عمل ایک مخالفت پر بائکاٹ کا حربہ نہیں اختیار کرنا چاہئے کیوں رنا چاہئے کیونکہ بائیکاٹ جب کہ صرف تبادلہ خیال تک محدود ہو صرف ذہنی نشوو نما کو روکنے کا ہی موجب ہوتا ہے اس سے زیادہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ میرے نزدیک صحیح طریق عمل یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے مقصود کے حصول کو تو اصل قرار دیں اور جائز ذرائع کو فرع۔ پس جو جائز ذریعہ ہمیں حاصل ہو ہم اس کو استعمال کر لیں اور ذریعہ کو مقصد کا قائم مقام بنا کر اپنی سب توجہ اس کی طرف نہ لگا دیں۔ ایک وکیل اگر دیکھے کہ اس کے مؤکل کو اس کے نقطہ نگاہ کے سوا کوئی اور نقطۂ نگاہ فائدہ پہنچا سکتا ہے تو اسے اس کے اختیار کرنے میں دریغ نہیں ہونا چاہئے۔ پس ہمیں اس امر سے زیادہ بحث نہیں کرنی چاہئے کہ ہمارے مدعا کے حاصل کرنے کیلئے کون سا ذریعہ مفید ہو سکتا ہے اور کسی جائز راستہ کو اپنے لئے بند نہیں کرنا چاہئے ۔ اس اصل کو تسلیم کرتے ہوئے اگر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کی سب کمیٹیوں کی شرکت ہمارے لئے مفید ہو تو ہمیں اس سے دریغ نہیں ہونا چاہئے اور اگر مضر ہو تو حتی الوسع ہمیں اس سے بچنا چاہئے۔ مشاورت میں شرکت سب سے پہلے مشاورت میں شرکت کے سوال کو میں لیتا ہوں۔ شرکت عام طور پر مفید ہوتی ہے۔ کیونکہ انسان کو اپنے خیالات کے پیش کرنے کا موقع موقع ملتا ملتا رہتا رہتا۔ ہے۔ اگر وہ پوری طرح کامیاب نہ بھی ہو تب بھی وہ یہ تو روشن روش کر دیتا ہے کہ میری رائے کے برخلاف اور صحیح دلائل نظر انداز کرتے ہوئے میرے مخالفوں نے فیصلہ کر دیا ہے لیکن اس موقع پر اس قسم کا تعاون مفید ہوتا ہے جب کہ دوسرا گر وہ یہ سمجھتا ہو کہ یہ تعاون کسی مقررہ پالیسی کے ماتحت ہے ۔ جب اس کا یہ خیال ہو اور جب یہ یہ واقعہ وا بھی ہو کہ شرکت یا ذاتی مفاد کی خاطر ہو یا کسی مقررہ پالیسی کے فقدان کی وجہ سے تو ایسی شرکت کوئی مفید نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی۔ اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کی سب کمیٹیوں میں شرکت اگر گلی طور پر مؤخر الذکر قسم میں داخل نہ ہو تو اس کے مشابہ ضرور ہے۔ مسلمانوں کی ایک ذمہ دار انجمن نے یہ اعلان کر دیا ہوا ہے کہ جب تک مسلمانوں کے حقوق کا فیصلہ نہ ہو اس وقت تک مرکزی ذمہ داری کے اصول کے طے کرنے میں ہمیں حصہ نہیں لینا چاہئے۔ میری ذاتی رائے بھی یہی ہے کہ یہی فیصلہ معقول ہے۔ پس اس فیصلہ کی موجودگی میں بغیر کسی شرط کے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کی سب کمیٹیوں میں