انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 484

انو ؛ را العلوم جلد ۱۳ راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس اور مسلمان وائسرائے کی صدارت میں دہلی میں منعقد ہو رہی ہے اب اس کے متعلق بھی مسلمانوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا اس میں شمولیت مسلمانوں کیلئے مفید ہو سکتی ہے؟ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہمیں اسے بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ بعض دوسروں کے نزدیک ہمیں اس سے پوری طرح تعاون کرنا چاہئے ۔ اول الذکر کے دلائل مجھے معلوم ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جب تک ہمارے حقوق کا فیصلہ نہیں ہو تا مرکزی حکومت کے اختیارات پر بحث کرنے سے ہم ایک رنگ میں اس کے قیام میں محمد ہوتے ہیں اور اس طرح خود اپنے ہاتھ کاٹ لیتے ہیں۔ دوسرے گروہ کا خیال غالبا اس امر پر مبنی ہے کہ اس وقت جب کہ ہندو حکومت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں ہمارا حکومت سے تعاون اچھے نتیجے پیدا کرے گا اور انگریزوں اور مسلمانوں میں اچھے تعلقات پیدا کر دے گا۔ میں ان دونوں گروہوں کو نیک نیت اور مسلمانوں کا خیر خواہ سمجھتا ہوں۔ لیکن میرے نزدیک یہ دونوں گروہ غلطی پر ہیں اور اس نازک موقع پر ہمیں اس سے زیادہ غور اور فکر کی ضرورت ہے جس قدر کہ اس وقت مسلمان کر رہے ہیں۔ ہمیں اس امر کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہندوستان کی تاریخ قریب میں مسلمانوں کے حقوق کے طے کرنے کا موقع دوبارہ نہیں آئے گا اور یہ کہ اگر ہم آج غلطی کر بیٹھے تو ہماری اولادوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور گو ہم اپنے آپ کو آپ کو قربان کرنے کو تیار ہوں، ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کہ اپنی اولادوں کو قربان کر کے غلامی کے طوقوں میں جکڑ دیں۔ یقینا اس سے زیادہ بد قسمت انسان ملنا مشکل ہو گا جس کی اپنی اولاد یا جس کے آباء کی اولاد اس پر لعنت کرے اور اسے اپنی ذلت کا موجب قرار دے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ہندوستان کے مسلمانان ہند کے حقوق کی اہمیت مسلمانوں کا سوال چار ہزار آدمیوں کا سوال نہیں بلکہ آٹھ نو کروڑ آدمیوں کا سوال ہے۔ اور پھر صرف ہندوستان کے مسلمانوں کا سوال نہیں بلکہ کل دنیا کے مسلمانوں کا سوال ہے کیونکہ اس وقت دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ بیداری ہندوستان کے مسلمانوں میں ہی ہے اور ان کی موت سے عالم اسلام عالم اسلام کی سیاسی موت اور ان کی زندگی سے عالم اسلام کی سیاسی زندگی وابستہ ہے۔ کیا اس قدر عظیم الشان ذمہ داری داری کی طرف سے ہم لا پرواہی کر سکتے ہیں۔ اسلام تو کیا اگر ہم : گر ہم میں انسانیت کا ایک خفیف سا اثر بھی باقی ہے تو ہم ایسا نہیں کر سکتے۔