انوارالعلوم (جلد 12) — Page 457
اتوا را العلوم جلد ۱۳ لدود فضائل القرآن (۴) اب دیکھو قرآن کی باتیں کیسی پوری ہوئیں۔ اور اس کی بیان کردہ پیشگوئیاں کس طرح سچی نکلیں ۔ کفار نے جب رسول کریم صلی اللہ کے متعلق کہا کہ اس کی اولاد نہیں تو خدا تعالیٰ نے فرمایا ۔ ہم اسے اولاد دیں گے ۔ اور ابتر کہنے والوں کی اولاد ہی چھین کر دے دیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔ حضرت مسیح نے اس پیشگوئی کا مصداق ہونے سے انکار کیا ہے۔ چنانچہ یوحنا بابا آیت ۲۱ میں لکھا ہے :۔ انہوں نے اس سے پوچھا۔ پھر کون ہے ۔ کیا تو ایلیاہ ہے۔ اس نے کہا۔ میں نہیں ہوں۔ کیا تو وہ نبی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔" اسی طرح اعمال باب ۳ میں لکھا ہے کہ وہ نبی مسیح کی بعثت ثانی سے پہلے اور بعثت ا کے بعد ظاہر ہو گا۔ بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ :۔ سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبیوں نے باتیں کیں ان سب نے ان دنوں کی خبر دی ہے ۔ ۵۹ اول یہ پیشگوئی رسول کریم میم کے ذریعہ پوری ہوئی۔ کیونکہ آپ ان کے بھائیوں یعنی حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے تھے۔ اس طرح یسعیاہ آنے والے نبی کی خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں :۔ تب قومیں تیری راستبازی اور سارے بادشاہ تیری شوکت دیکھیں گے۔ اور تو ایک نئے نام سے کہلائے گا۔ جسے خداوند کا مونہہ خود رکھ دے گا۔ “ سوائے اسلام کے دنیا میں کوئی مذہب نہیں جس کا نام خدا تعالیٰ نے رکھا ہو۔ چنانچہ اسلام کے متعلق ہی فرمایا ہے ۔ وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا *** دوسری پیشگوئی بھی اس کے ساتھ لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ :۔ تو آگے کو متروکہ نہ کہلائے گی۔ اور تیری سرزمین کا کبھی پھر خرابہ نام نہ ہو گا۔ بلکہ تو حفیضیاہ کہلائے گی ۔ " یہ پیشگوئی بھی اسلام کے متعلق ہی ہے۔ چنانچہ مکہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ أَمِنَّا آل جو اس میں داخل ہو وہ امن میں آجاتا ہے۔ پھر حضرت مسیح کہتے ہیں۔