انوارالعلوم (جلد 12) — Page 456
انوار العلوم جلد ۱۴ ۴۵۶ فضائل القرآن (۴) کہا۔ یہ بے وقوف بچہ ہے۔ اسے جانے دیں۔ حالانکہ بات یہ تھی کہ انہوں نے قرآن سنا ہوا تھا۔ اور اب ان کے نزدیک شعروں کی کچھ حقیقت ہی نہیں رہ گئی تھی۔ بلکہ خود لبید نے مسلمان ہونے پر یہی طریق اختیار کیا۔ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ اپنے ایک گورنر کو کہلا بھیجا کہ مجھے بعض مشہور شعراء کا تازہ کلام بھجواؤ ۔ جب ان سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا۔ تو انہوں نے قرآن کریم کی چند آیات لکھ کر بھیج دیں۔ جب لبید نے دوسرا مصرع پڑھا اور کہا کہ ہر نعمت زائل ہونے والی ہے تو عثمان نے کہا۔ یہ غلط ہے۔ جنت کی نعمتیں کبھی زا کبھی زائل نہیں ہونگی۔ یہ سن کر اسے طیش آگیا اور اس نے اہل مجلس سے کہا کہ تم نے میری بڑی ہتک کرائی ہے۔ اس پر ایک شخص نے عثمان کو برا بھلا کہا۔ اور اس زور سے مکا مارا کہ ان کی ایک آنکھ نکل گئی۔ ولید کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا۔ دیکھا میری پناہ میں سے نکلنے کا یہ نتیجہ ہوا۔ اب بھی پناہ میں آجاؤ ۔ حضرت عثمان نے کہا۔ پناہ کیسی۔ میری تو دوسری آنکھ بھی انتظار کر رہی ہے کہ خدا تعالی کی راہ میں نکلے۔ ان کے فوت ہونے پر رسول کریم میں ہم نے انہیں بوسہ دیا اور آپ کی آنکھوں سے اس وقت آنسو جاری تھے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ ابراہیم فوت ہوا۔ تو آپ نے فرمایا الْحِقَ بِسَلْفِنَا الصَّالِحِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونِ ٦ه، یعنی ہمارے صالح عزیز معثمان بن مظعون کی صحبت میں جا۔ دوسرا دعوی قرآن کریم کے پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب متعلق یہ کیا گیا ہے کہ یہ پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب ہے۔ چنانچہ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۵ میں آتا ہے۔ ” خداوند تیرا خدا تیرے لئے۔ تیرے ہی درمیان سے۔ تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ ۵۷ اس میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ نبی جو آنے والا ہے وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہو گا بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے ہو گا گویا وہ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے ہی ہو گا۔ نہ کہ کسی غیر قوم سے پھر اس کی علامت یہ بتائی کہ :۔ جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے۔ اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو۔ تو وہ بات خداوند نے نہیں کی۔ ۵۸۴