انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page v of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page v

خلیفہ المسیح الثانی کی تقریر ۱۹۴۴ء بمقام قادیان کے مطابق ۵۲ نشانات پر مشتمل ہے اور ہر نشان ایک پیشگوئی کا رنگ رکھتا ہے۔ مگر مذکورہ بالا حصہ پیشگوئی خاص طور پر بیسیویں صدی کی چوتھی دہائی کے مسائل سے خاص تعلق رکھتا ہے۔ عمومی طور پر تو حضور کے تمام لیکچر اور مضامین لے اس الہام کے مصداق ہیں کہ ” وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم ا حلیم اور علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جائے گا۔ مگر جس الہی تائید و نصرت سے آپ نے برصغیر ہند بلکہ عالمگیر مسائل میں قوموں کی راہنمائی کی، اس کی انتہائی شان اس دہائی کے سماجی، سیاسی، اقتصادی اور حقوق انسانی کے ناطہ سے نکھر کر سامنے آتی ہے اور یہ حقیقت أَظْهَرُ مِنَ الشَّمْسِ ہو جاتی ہے۔ کہ اس کے سر پہ خدا کا سایہ ہو گا ، یعنی آسمانی تائیدات سے نوازا جائے گا ۔ ” وہ جلد جلد بڑھے گا ۔ یعنی اپنی اہم ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے خلاف توقع بہت جلد قائدانہ صلاحیتوں سے مزین ہو گا اور وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور تو میں اس سے برکت پائیں گی۔ ،، "۔۔۔۔۔۔۔۔ محولہ بالا اس آخری حصہ کا ظہور اُس وقت بڑی شان سے سامنے آیا جب حضور نے کشمیر کی مظلوم انسانیت کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ۔ کشمیر کے عوام کس قدر جبر و استبداد کا شکار تھے غربت و ظلم کی چکی میں کس طرح پس رہے تھے ۔ عوام الناس صبر آزما ذہنی غلامی پر قناعت کر چکے تھے ۔ مہاراجہ کا ایک گھرانہ ان بے زبانوں کی قسمت کا مالک واحد بن کر اس مملو کہ انسا نیت پر حکومت کر رہا تھا۔ اُس وقت ایک دل تھا جو اس مظلومیت کے لئے تڑپا اور اُس نے ان مسلوب الحقوق انسانوں کیلئے عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ حضرت مصلح موعود نے ممتاز وکلاء، دانشوروں ، ماہر قانون دانوں ، اطباء اور ڈاکٹروں ، سوشل ورکروں اور سیاست دانوں کو کشمیریوں کی مدد کیلئے پکارا اور دامے درمے قدمے سخنے اہل کشمیر کی تائید اور مدد کرتے ہوئے خدا کی رحمت و غیوری کے ہاتھ سے ایسی جدو جہد کی کہ مہاراجہ کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا یہاں تک کہ ان کے سر پرست انگریز حکمرانوں نے بھی محسوس