انوارالعلوم (جلد 12) — Page 451
انوارالعلوم جلد ۱۳ ۴۵۱ فضائل القرآن (۴) نے اس فکر کو یہ کہہ یہ کہ کر دور کر دیا کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ أيْتِهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ - ۲۶ فرمایا ۔ تم سے پہلے بھی کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں بھیجا گیا کہ جب اس کے دل میں کوئی خواہش پیدا ہوئی ہو تو شیطان نے اس میں دخل نہ دے دیا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ شیطان کی بات کو مٹا دیتا ہے۔ اور جو اس اس کا کی اپنی طرف سے ہوتی ہے اسے قائم رکھتا ہے۔ کہتے ہیں جب یہ آیت اللہ تعالی نے نازل کی تو رسول کریم ملی ایم کی تسلی ہو گئی۔ تسلی کس طرح ہوئی اسی طرح جس طرح اس بڑھیا عورت کی ہو گئی تھی جس سے کسی نے پوچھا کہ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تمہارا کبڑا پن دور ہو جائے یا یہ کہ دوسری عورتیں بھی تمہاری طرح کبڑی ہو جائیں۔ اس نے کہا۔ مجھ پر تو دوسری عورتوں نے جس قدر ہنسی کرنی تھی کر لی ہے۔ اب باقی عورتیں بھی کبڑی ہو جائیں تاکہ میں بھی ان پر ہنسوں۔ اس روایت کو درست قرار دینے والوں کے نزدیک رسول کریم میں کی کس طرح تسلی ہوئی۔ اس طرح کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو کہہ دیا کہ تم پر ہی شیطان کا قبضہ نہیں ہوا سب نبیوں پر ہوتا چلا آیا ہے۔ یہ سن کر رسول کریم میں اللہ کا فکر دور ہو گیا۔ کتنی نا معقول بات ہے۔ ان لوگوں نے کبھی اتنا بھی نہ سوچا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمُ الله تعالیٰ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ شیطان کا ہر نبی اور رسول پر قبضہ پالینا بڑی حکمت کی بات ہے۔ اور پھر علیم کا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ میں بیان کر رہا تھا کہ ایک بزرگ کے قول سے مجھے بڑا مزہ آتا ہے۔ ان کا نام قاضی عیاض ہے۔ وہ اس قسم کی روایتیں نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان سے یہ تو پتہ لگ گیا کہ شیطان کا تصرف ہوا۔ مگر رسول کریم میں الم پر نہیں بلکہ ان روایتوں کو نقل کرنے والوں کی قلموں پر ہوا ہے۔ یہ بہت ہی لطیف بات ہے۔ قرآن کریم نے اس کا جو جواب دیا ہے۔ وہ اسی جگہ موجود ہے جہاں کہتے ہیں کہ شیطان نے آیتیں نازل کیں ۔ یعنی تِلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلى - وَأَنَّ شَفَا عَتَهُنَّ لَتُرْ تَجْی کے ی بعد کہتے ہیں کہ یہ آیات اتریں۔ اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى - تِلْكَ إِذَا قِسْمَةً شِيزَى إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءُ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَّا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا