انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 438

انوار العلوم جلد ۱۲ کا کلام سمجھا جاتا ہے ۔ مگر یہ تو رسول ہے۔ ۲۳۸ فضائل القرآن (۴) تیسری دلیل یہ دی کہ کاہن تو اپنے اخبار کو اپنے علم کی طرف منسوب کرتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ میں نے جفر، رمل ، تیروں اور ہندسوں وغیرہ سے یہ یہ باتیں معلوم کی ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ کی طرف اپنی خبروں کو منسوب نہیں کرتا۔ مگر یہ رسول کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے کلام پا کر سناتا ہوں اور یہ اپنے کلام کو تنزِيلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ کہتا ہے۔ یہاں یہ بھی بتا دیا کہ کاہن ایسی باتیں بیان کرنے کی وجہ سے اس لئے سزا نہیں پاتا کہ وہ خدا پر تقول نہیں کرتا بلکہ اپنی طرف سے بیان کرتا ہے۔ مگر رسول کہتا ہے کہ خدا کی طرف سے میں بیان کرتا ہوں۔ اگر رسول جھوٹا ہو تو فور انتباہ کر دیا جاتا ہے۔ پس یہ کاہن نہیں ہے بلکہ خدا کا سچا رسول ہے۔ اور اس پر پر جو جو کلام کلام نازل ہوا ہے۔ یہ رب اللہ العالمین خدا کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ اگر کہو کہ یہ اس طرح اپنی کہانت کو چھپاتا ہے تو یاد رکھو کہ جان بوجھ کر ایسا کرنے والا کبھی سزا سے نہیں بچ سکتا۔ اگر یہ شخص ہماری طرف جھوٹا الهام منسوب کر دیتا۔ خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم یقینا اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے اور اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی نہ ہو تا جو اسے خدا کے عذاب سے بچا سکتا۔ ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ آپ شاعر ہیں۔ چنانچہ سورۃ انبیاء رکوع اول میں چھٹا اعتراض آتا ہے بَلْ هُوَ شَاعِر کہ یہ فصیح باتیں بیان کر کے لوگوں پر اثر ڈال لیتا ہے۔ اس کا جواب سورۃ لین رکوع ۵ میں یہ دیا کہ وَ مَا عَلَّمْنَاهُ الشَّعْرَ وَ مَا يَنْبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَ قُرْآنٌ أن مُّبِين - لِيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيَّا وَ يَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ ٣٣ یعنی ہم نے اسے شعر نہیں سکھایا۔ اور یہ تو اس کی شان کے مطابق بھی نہیں ہے۔ یہ تو ذکر اور قُرْآنٌ مُّبِيْنَ ہے۔ کھول کھول کر باتیں سنانے والا ہے۔ یہ اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ اُسے جس میں روحانی زندگی ہے ڈرائے اور کافروں پر حجت تمام ہو جائے۔ اس میں اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ اول قرآن شعر نہیں۔ ان لوگوں کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ نثر کو شعر کہتے ہیں۔ دوم۔ اگر کہیں کہ مجازی معنوں میں شعر کہتے ہیں کیونکہ شعر کے معنے ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو اندر سے باہر آئے اور شعر کو اس لئے شعر کہا جاتا ہے کہ وہ جذبات کو اُبھارتا ہے تو اس کا جواب یہ دیا کہ وَمَا يَنْبَغِی که یہ تو اس کی شان کے ہی مطابق نہیں کہ اس قسم کی باتیں کرے۔ اس کی ساری زندگی دیکھ لو۔ شاعر کی غرض اپنے آپ کو