انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 437

انوا را العلوم جلد ۱۳ فضائل القرآن (۴) ایک نے بتائی تھی۔ مولوی صاحب نے ایک دفعہ پردہ میں بیٹھ کر ایک ارڈ پوپو کو اپنا ہاتھ دکھایا۔ اس نے آپ کو عورت سمجھ کر خاوند کے متعلق باتیں بنانی شروع کر دیں۔ جب وہ بہت کچھ بیان کر چکا تو مولوی صاحب نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اپنی داڑھی اس کے سامنے کر دی۔ یہ دیکھ کر وہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اور پھر کبھی اس محلہ میں نہیں آیا۔ غرض کاہنوں کی خبریں محض خبریں ہی ہوتی ہیں کہ فلاں کے ہاں بیٹا ہو گا۔ فلاں مر جائے گا ان میں خدا تعالیٰ کی قدرت کا اظہار نہیں ہوتا۔ مگر محمد رسول اللہ میں یہ جو خبریں بتاتے ہیں ان کو کاہنوں والی خبریں نہیں کہا جا سکتا۔ یہ تو ایمان کو تازہ کرنے والی اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے جلال کو ظاہر کرنے والی ہیں۔ رسول کہتا ہے میں خدا کی طرف سے آیا ہوں جو میرا مقابلہ کرے گا وہ ناکام رہے گا۔ اور جو مجھے مان لے گا جیت جائے گا۔ مگر کوئی کاہن یہ نہیں کہہ سکتا۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کاہن کا قول ہے۔ ان کی عقل ایسی ماری گئی ہے۔ کہ اتنی پیشگوئیاں سنتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کی قدرت اور جبروت کا اظہار ہے۔ مگر پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ دوسرا رو اس کا یہ فرمایا - فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ - وَمَا لَا تُبْصِرُونَ إِنَّهَ لَقَوْلُ رَسُوْلِ كَرِيمٍ وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الا قَاوِيلِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَجِزِينَ - ۳۲ یعنی ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اس کو بھی جسے تم دیکھتے ہو اور اس کو بھی جسے تم نہیں دیکھتے۔ یعنی اس کے ظاہری اور باطنی دونوں حالات اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ قرآن ایک عزت والے رسول کا کلام ہے۔ ظاہری حالات کے لحاظ سے ایک بات میں کاہن اور شاعر دونوں مشترک ہوتے ہیں۔ شاعر بھی بڑے بڑے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ اور سب کچھ بیان کرنے کے بعد ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔ اسی طرح کا ہن بھی خبریں بتا کر مانگتا پھرتا ہے۔ مگر فرمایا یہ رسول تو ایسا ہے جو اپنے پاس سے خرچ کرتا ہے۔ کاہن تو دوسروں سے مانگتا ہے۔ یہاں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قرآن کو رسول کریم صلی اللہ کا کلام قرار دیا گیا ہے۔ یہاں رسول کہہ کر اس شبہ کو رد کر دیا ہے۔ اور بتایا ہے کہ یہ آپ کا کلام نہیں کیونکہ رسول وہی ہوتا ہے جو دو سرے کا پیغام لائے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم) اپنی طرف سے بیان کرتا تو آپ