انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 419

انوار العلوم جلد ۱۴ ۴۱۹ فضائل القرآن (۴) بات ہوئی۔ پھر میں وہاں سے بھاگ آیا۔ جس مجلس میں اس نے یہ بات سنائی۔ اس میں ایک معزز غیر احمدی بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہا۔ یہ شخص بڑا ہی جھوٹا ہے۔ میں خود قادیان سے ہو آیا ہوں۔ اور یہ وہاں گیا ہی نہیں۔ وہاں تو یکہ چلنا بھی مشکل ہے۔ فٹن اس کا باپ وہاں لے گیا تھا؟ اسی طرح وہ لوگ کرتے ۔ کلام سنتے اور پھر کچھ کا کچھ جا کر دوسروں سے بیان کرتے۔ اس بات کا ثبوت کہ یہ انہی کے متعلق ہے یہ ہے کہ اگلی آیت میں آتا ہے۔ وَ إِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُوْ كُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ، وہ مسلمانوں کے پاس آکر کہتے ہیں ہم تو ایمان لے آئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریف کرنے والے بھی رسول کریم مسلم کے زمانہ کے لوگ تھے جو قرآن سن کر دوسروں ۔ کے سامنے جھوٹ بولتے اور کہتے کہ اس نے یوں کہا ہے ۔ دوں کہا ہے۔ پھر اس جگہ فرماتا ہے۔ يَسْمَعُونَ كَلَامَ الله کلام اللہ سنتے ہیں۔ مگر یہودی کوئی کتاب نہیں سنتے تھے بلکہ پڑھتے تھے۔ اور اس میں فقرے داخل کرنے والا سن کر نہیں بلکہ پڑھ کر داخل کر سکتا ہے۔ اگر بائیبل مراد ہوتی تو يَقْرَءُونَ آتا۔ کیونکہ بائیبل تو وہ لوگ پڑھا کرتے تھے۔ پس یہاں تو رات کا نہیں بلکہ قرآن کا ذکر ہے۔ اور مراد یہ ہے کہ مسلمانوں سے سن کر اور سمجھ کر ایسے رنگ میں بیان کرتے ہیں کہ لوگ مخالفت میں بڑھیں۔ تیسری آیت سورۃ فتح رکوع ۲ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انْطَلَقْتُمْ إِلَى مَغَائِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كلام الله که فرمایا۔ وہ لوگ جن کو پیچھے چھوڑا گیا ہے۔ جب تم جنگ کو جاتے ہو۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ فتوحات حاصل ہونگی اور غنیمتیں ملیں گی ۔ تو کہتے ہیں۔ ہمیں بھی ساتھ لے چلو وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح خدا کے کلام کو بدل دیں۔ اگر تم ان کو ساتھ لے جاؤ گے تو وہ کہیں گے دیکھو انہوں نے خدا کے کلام کو بدل دیا ہے۔ جس میں کہا گیا تھا کہ یہ نہیں جائیں گے۔ اور اگر نہ لے جاؤ گے تو کہیں گے یہ حریص ہیں۔ سب کچھ خود ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ غرض قرآن میں کلام اللہ کا لفظ تین جگہ آیا ہے۔ اور تینوں جگہ قرآن کریم کے متعلق ہی استعمال ہوا ہے۔ کسی اور کتاب کے متعلق نہیں۔ اس لئے عقلاً یہی کہا جائے گا کہ قرآن ہی کلام اللہ ہے ۔ اور ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم بلا دلیل یہ خیال کریں کہ قرآن کریم