انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 418

انوار العلوم جلد ۱۳ ۴۱۸ فضائل القرآن (۴) رقم حکم دیتے ہیں کہ حکومتوں کے دستور کے خلاف اگر کوئی غیر قوم کا فرد تمہارے پاس آئے اور کلام اللہ سننا چاہے۔ تو اسے سناؤ۔ اگر وہ نہ مانے اور واپس جانا چاہے تو اسے واپس پہنچا دو اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ دوسری جگہ آتا ہے۔ اَفَتَطْمَعُوْنَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلَامَ اللهِ ثُمَّ يُحَرِّ فُوْنَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ لَ فرمایا۔ اے مسلمانو! کیا تم اس بات کی امید رکھتے ہو کہ وہ تمہاری باتیں مان لیں گے۔ بعض صحابہ سمجھتے تھے کہ یہود ہماری باتیں مان لیں گے۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کی دوستیاں تھیں۔ تعلقات تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کیا تمہاری ایسی دوستی ہے کہ وہ تمہاری بات مان لیں گے حالانکہ ان میں سے ایک جماعت آتی ہے۔ قرآن سنتی ہے ۔ پھر يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ اس کا مفہوم سمجھنے کے بعد اور بات بنا لیتی ہے۔ جو جھوٹ ہوتی ہے۔ حالانکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ کہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ جب قرآن کے متعلق ان کا یہ حال ہے۔ تو تمہاری باتیں کہاں مان سکتے ہیں۔ بعض نے یہاں کلام اللہ سے تو رات مراد لی ہے مگر رسول کریم میں تعلیم کے زمانہ میں کون سے ایسے یہودی علماء تھے کہ جن کی تحریف کوئی اثر رکھتی تھی۔ معمولی درجہ کے لوگ تھے۔ اگر کوئی سردار تھا تو محلہ کے سردار سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا تھا۔ اس لئے مدینہ کے یہود کو خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ اگر وہ تو رات کو بدل کر پیش کریں گے تو لوگ مان لیں گے۔ وہ یہیں کرتے تھے کہ رسول کریم مسلم کی صحبت میں آتے۔ قرآن کریم سنتے۔ اور پھر بالکل جھوٹی باتیں جا کر بیان کرتے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور قادیان کے متعلق لوگ غلط بیانیاں کرتے تھے۔ فیروز پور کے علاقہ کے ایک شخص نے دوسروں سے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ قادیان گیا تو مجھے مہمان خانہ میں ٹھیرایا گیا۔ ہمارے پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ مرزا صاحب نے حلوہ بھیجا ہے۔ اور کہا ہے کہ سب مہمانوں کو کھلا دو۔ باقی سب مہمانوں نے تو کھا لیا لیکن میں نے موقع پا کر پھینک دیا۔ کچھ دیر بعد مرزا صاحب مجھے ساتھ لے کر فٹن میں سیر کو نکلے۔ (اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ قادیان آیا ہی نہیں تھا) رستہ میں مجھ سے باتیں کرتے رہے۔ اور کہا میں ہی خدا ہوں۔ یہ سن کر میں نے لا حول پڑھا۔ اس پر ان کا رنگ فق ہو گیا۔ اور مولوی نور الدین صاحب کی طرف دیکھ کر کہنے لگے۔ کیا اسے حلوہ نہیں کھلایا تھا؟ مولوی صاحب کا بھی رنگ اُڑ گیا۔ اور انہوں نے کہا میں نے تو حلوہ بھیج دیا تھا۔ نہ معلوم کیا