انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xlvi of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page xlvi

تعارف کتب ۳۷ انوار العلوم جلد ۱۳ پوچھا یہاں کیوں بیٹھے ہو تو اس نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی تو تعمیل ارشاد کیلئے یہیں بیٹھ گیا۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ کیا بات ہے میں نے صرف تعمیل ارشاد کی ہے۔ سو تم بھی یہ ضروری اور نہایت ضروری بات سیکھو کہ نظام اور پابندی قوانین کیلئے ہر ایک حکم ماننا ضروری ہے۔ (۳۱) بعض اہم اور ضروری امور جلسہ سالانہ کے موقع پر ۲۷ دسمبر ۱۹۳۲ء کو حضرت خلیفہ المسح الثانی نے متفرق امور کے بارہ میں تقریر فرمائی ۔ ابتداء حضور نے فرمایا کہ عورتوں کا جلسہ گاہ نا کافی ہونے کی وجہ سے بہت دقت پیش آئی ہے۔ ہر سال جلسہ پر آنے والوں کی تعداد خدا تعالی کے فضل سے بڑھتی ہے۔ اس لئے منتظمین جلسہ کو چاہیئے کہ وہ اس تعداد کو مد نظر رکھ کر جلسہ گاہ تیار کیا کریں ۔ فرمایا کہ اب جبکہ سامعین کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ ان سب تک آواز پہنچانا مقرر کے بس کی بات نہیں رہی آئندہ مردانہ اور زنانہ دونوں جلسہ گاہوں میں لاؤڈ سپیکر کا انتظام ہونا ضروری ہے۔ جلسہ سالانہ کیلئے لیکچرار مقرر کرنے کے سلسلہ میں منتظمین کی راہنمائی کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔ اسی سلسلہ میں یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ ہمارا سٹیج جلسہ سالانہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیابت میں ہوتا ہے اس لئے اس سٹیج پر پرانے صحابہ اور پرانے کا رکنوں کو بولنا چاہیئے اور نئے آدمیوں کیلئے یہ رکھا تھا کہ کم از کم سات آٹھ سال انہیں بولنا یہ کم کم خدمت دین کا موقع ملا ہو اور ان کی رائے سلجھ چکی ہ سمجھ چکی ہو۔ میں نے یہ فیصلہ ایک حکمت کے ماتحت کیا تھا اور وہ حکمت ۔ یہ ہے کہ دنیا میں صرف علم ہی رائے کو پختہ کرنے کیلئے کافی نہیں ہوتا بلکہ تجربہ بھی رائے کو سلجھاتا ہے اور نوجوانوں کے مقابلہ میں عمر رسیدہ لوگوں کی رائے بہت پختہ ہوتی ہے ادھر نو جوانوں میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ آگے بڑھیں اگر اس کیلئے کوئی ۔ حد بندی نہ ہو تو وہ بوڑ ھے ھے ؟ جنہوں نے نے علم علم اور اور تجربہ تو حاصل کیا ہوا ہے مگر ان میں جنگی سپرٹ نہیں ہوتی ان کو ایسے نوجوان پیچھے کر دیں گے۔ اس حکمت کے XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX XXXXXXXXXXXXXXX