انوارالعلوم (جلد 12) — Page 402
انوار العلوم جلد ۱۴ ۴۰۲ بعض ضروری امور پنجاب میں احمدی اور سکھ برابر ہو جائیں گے لیکن ہمارا نقطہ نگاہ اس سے بہت بلند ہے۔ ہمارے نزدیک چالیس پچاس سال بہت لمبا عرصہ ہے اس عرصہ میں تو ہم ساری دنیا کو اپنے ساتھ شامل کر لینے کی امید رکھتے ہیں۔ گذشته مردم شماری میں ہماری جو تعداد قرار دی گئی ہے وہ یقینی طور پر غلط ہے۔ مثلاً جالندھر اور ہوشیار پور میں احمدیوں کی تعداد بہت کم دکھائی گئی ہے۔ پھر ایسی بھی مثالیں موجود ہیں کہ کسی جگہ تین چار سو مرد اور صرف چند عورتیں احمدی لکھی ہیں حالانکہ یہ نا ممکن ہے کہ جہاں اتنے مرد احمدی ہوں وہاں ان کے قریب قریب ہی احمدی عورتیں نہ ہوں۔ اسی طرح کئی جگہ ایسا ہوا ہے کہ مرد چند لکھے گئے ہیں اور عورتیں بہت زیادہ لکھی گئی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے اس میں غلطی ہوئی ہے اور احمدیوں کے نام کسی اور لسٹ میں شامل ہو گئے۔ بہر حال گورنمنٹ کے نقطہ نگاہ سے ہماری بہت بڑی ترقی ہوئی اور میں امید کرتا ہوں کہ دوست آئندہ دس سال میں کوشش کر کے اس زور سے تبلیغ کریں گے کہ اگر صحیح طور پر مردم شماری ہو تو تعداد دس لاکھ تک ہو جائے اور یہ کوئی بعید بات نہیں۔ خدا تعالیٰ نے ہمیں سچائی اور صداقت دی ہے۔ پس تبلیغ کیلئے پوری کوشش کرنی چاہئے۔ (الفضل کے جنوری ۱۹۳۲ء) ایک اور امر جو ہماری جماعت میں کھٹک رہا تھا اور جس کے متعلق مخالف یہ کہتے تعمیر نے بیج تھے کہ ہم نے بزدلی دکھائی ہے وہ بھی حل ہو گیا یعنی قادیان میں نذبح بن گیا۔ ہمارے آباء کی رواداری کی وجہ سے جو یہاں کے حاکم تھے ہم نے بھی مدیح بنانے کا ارادہ چھوڑ رکھا تھا مگر بعض لوگوں نے اس سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اسے ہماری کمزوری پر محمول کیا اور جب مدیح بنایا گیا تو انہوں نے گرا دیا ۔ جماعت نے ان لوگوں کا مقابلہ اس لئے نہ کیا کہ میں قادیان میں موجود نہ تھا اور جماعت کے لوگوں نے خیال کیا کہ ہم پر کوئی الزام نہ آئے نہ کہ حکومت یا کسی اور سے ڈر کر انہوں نے ایسا کیا۔ انہوں نے اطاعت کا مومنانہ نمونہ دکھایا مگر کہا گیا کہ انہوں نے بزدلی سے کام لیا۔ جب جماعت کی ہتک کا سوال پیدا ہوا تو میں نے اس کی اہمیت بیان کی اور ہندوؤں سے رعایت کرنی چاہی۔ میں نے انہیں کہا انتظار کریں میں کوشش کروں گا کہ ایسی راہ نکل آئے جس میں ان کے احساسات کو صدمہ نہ پہنچے۔ مگر انہوں نے مجھ پر اعتماد نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ آپ تو نذبح کے بننے کی کوشش کرتے رہے ہیں حکام نے نہیں بننے دیا۔ اس پر میں نے کہا۔ اچھا جاؤ حکام سے ہی کہو کہ نہ بنے دیں۔ آخر اس سال مدیح بن گیا جس میں گائیں ذبح