انوارالعلوم (جلد 12) — Page 400
انوار العلوم جلد ۱۴ بعض ضروری امور کوشش یہ کریں کہ جو کام شروع ہیں وہ بند نہ ہوں بلکہ ان کاموں کو جاری رکھتے ہوئے اخراجات میں بچت نکالی جائے۔ دوسرے تربیت کے پہلو پر زور دینا چاہئے اور اس کی ہی۔ صورت ہے ہے کہ ہمارے مبلغ کثرت ۔ رت سے جماعتوں میں پھریں اور تعلیم و تربیت کا انتظام کریں۔ اب میں ایک اہم واقعہ کو لیتا ہوں جو اس سال ہوا۔ پچھلے دنوں ایک صاحب تحریک مباہلہ کی طرف سے جنہوں نے اپنے آپ کو اہلحدیوں کا امیر لکھا مباہلہ کی تحریک ہوئی جو ہمارے لئے بہت خوشی کی بات تھی۔ اس پر میں نے لکھا کہ ہماری جماعت کی طرف سے ایک ہزار آدمی مباہلہ میں شریک ہوں اور ایک ہزار اہلحدیثوں کی طرف سے ۔ باوجود ان کے یہ اعلان کرنے کے وہ بہت زیادہ لوگ اپنی طرف سے پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات منظور نہ کی۔ مگر جب ہم نے اپنی جماعت کے لوگوں کے نام طلب کئے اور کہا کہ استخارہ کر کے اپنے آپ کو پیش کریں تو اس کا ایسا اثر پیدا ہوا جو بتاتا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں میں ایمان کس مضبوطی سے قائم ہے۔ تاروں کے ذریعہ شمولیت کی کئی درخواستیں آئیں اور ان میں لجاجت سے کہا گیا کہ انہیں شمولیت کا ضرور موقع دیا جائے۔ اس کثرت سے درخواستیں آئیں کہ لوگ ٹوٹے پڑتے تھے ۔ بعض نے لکھا کہ شامل ہونے والوں کیلئے کڑی شرطیں لگائی جائیں۔ مثلا یہ کہ وہ دین کیلئے زندگیاں وقف کریں ۔ یا اپنی جائدادیں وقف کر دیں۔ اس طرح مقابلہ کرایا جائے اور پھر جو مقابلہ میں بڑھیں انہیں شامل کیا جائے۔ میں نے بعض الہی حکمتوں کے ماتحت اشتہار کا جواب نہیں دیا تھا جو اب انشاء اللہ جنوری میں شائع ہو جائے گا۔ جن کے نام شمولیت کیلئے آچکے ہیں اگر فریق مخالف مان لے تو انہیں تیار رہنا چاہئے تاکہ ہماری طرف سے ایک ہزار آدمی پیش ہو جائیں۔ وہ ایک ہزار سے جتنے کم لا سکیں لائیں مگر بہر حال جماعت ہونی چاہئے۔ جس قدر تعداد مانگی گئی تھی چونکہ نام اس سے زیادہ آچکے ہیں اس لئے شرائط لگا کر ہی ان میں سے ایک ہزار کا انتخاب کیا جائے گا۔ اور یہ بھی سکتا ہے کہ سب کو اس موقع پر آنے کی اطلاع دے دی جائے۔ ہو اس سال ایک کتاب سلسلہ کی طرف سے بیش قیمت شائع سیرت خاتم النبین حصہ دوم ہوئی ہے جس کا نام سیرت خاتم البين " حصہ دوم ہے اور جو میاں بشیر احمد صاحب کی تصنیف ہے۔ میں نے اس کا بہت سا حصہ دیکھا ہے۔ اس کے متعلق مشورے بھی دیتے ہیں اور جہاں مجھے شدید اختلاف ہوا ہے وہاں میں نے اصلاح بھی کرائی