انوارالعلوم (جلد 12) — Page 390
انوار العلوم جلد ۱۳ ۳۹۰ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۱ء کے ساتھ آئے ہیں انہیں بھی تحریک کریں اور توجہ دلاتے رہیں کہ وہ صحیح طور پر اپنے اوقات صرف کریں۔ پھر جلسہ میں شریک ہونے کیلئے آنے و آنے والے احباب مسافر ہیں اور مسافر مسافر کو ایک حد تک معذور قرار دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ فرض عبادت بھی اس کیلئے نصف کر دی گئی ہے۔ لیکن اس مقام کو اللہ تعالیٰ نے چونکہ خاص برکتوں کا موجب بنایا ہے اور ان ایام کو بھی خاص برکتوں کا ذریعہ ٹھرایا ہے اس لئے احباب کو چاہئے کہ باوجود سفر میں ہونے کے جہاں تک ہو سکے عبادت پر زیادہ سے زیادہ زور دیں۔ اور دعاؤں کی طرف خاص طور پر توجہ کریں کیونکہ خاص مقام اور خاص ایام کی عبادتیں اور دعائیں بھی اپنے اندر خاص برکات رکھتی ہیں۔ بلا شبہ اللہ تعالی ہمیشہ ہی اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور ہر جگہ سے سنتا ہے مگر بندہ کو تحریک اور تحریص دلانے کیلئے کہتا ہے کہ فلاں اوقات اور فلاں جگہوں کی دعا ئیں زیادہ سنوں گا۔ چونکہ انسان پر غفلت کے اوقات آتے ہیں اور غفلت کی وجہ سے اس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بندہ کیلئے خاص اوقات اور خاص مقام مقرر کر دیئے تاکہ ان سے فائدہ اٹھائے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی خاص وقت اور خاص مقام کی عبادت دوسرے اوقات اور دوسرے مقامات میں عبادت کرنے سے مستغنی کر دیتی ہے۔ قضاء عمری کی ہماری شریعت میں کوئی حقیقت نہیں۔ اسلامی شریعت ضروری قرار دیتی ہے کہ باقی ایام میں بھی اور ہر مقام پر فرائض ادا کرنے ضروری ہیں اور کسی وقت انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں جو لوگ نوافل میں مست ہوں ، جن کی عبادتوں میں کمی رہ جائے اور جو روحانیت میں ترقی کی خواہش رکھتے ہوں ان کیلئے دوسرے خاص اوقات مقرر کر دیئے گئے تاکہ ان اوقات کے نوافل ان کی کمی کو دور کر دیں ورنہ فرائض اپنے وقت پر ہی ادا کرنے ضروری ہیں۔ غرض خدا تعالٰی نے اپنے بندوں پر فضل نازل کرنے اور انہیں اپنا قرب عطا کرنے کیلئے ان کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باعث برکات اور انوار کے خاص اوقات اور خاص مقامات مقرر کر دیتے ہیں ایسے مقامات میں سے سب سے اول درجہ کا مقام مکہ ہے اور وہاں کی خاص برکات حاصل کرنے کیلئے خاص ایام بھی مقرر ہیں۔ دو سرا مقام مدینہ ہے۔ وہاں کیلئے کوئی خاص ایام مقرر نہیں۔ انسان جب چاہے وہاں جا سکتا ہے اس سے اُتر کر قادیان کا مقام ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة