انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 367

انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۶۷ نبی کریم میں کے پانچ عظیم الشان اوصاف باپ کے ظلموں سے تنگ آکر ہم نے اسے قتل کر دیا ہے۔ اس نے عرب کے ایک شخص کے متعلق ایسا ظالمانہ حکم دیا تھا اسے بھی منسوخ سمجھو۔ ۲۴، غور کرو کہ غریب بڑھیا سے تو وہ معاملہ ہے اور کسری جیسے جابر بادشاہ سے یہ کہ جا کر کہہ دو ہم تمہاری بات نہیں مانتے۔ غیر قوموں کے لوگوں سے سلوک یہ ہے کہ سلمان فارسی آتے ہیں اور غیر لوگوں میں ہونے کی وجہ وجہ سے اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔ آپ ان کی دلجوئی کا اس حد تک خیال رکھتے ہیں کہ فرماتے ہیں۔ سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ۲۵ سلمان ہمارے رشتہ داروں میں سے ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو کس طرح امن میں نہ سمجھتا ہو گا۔ غرضیکہ ہر شخص خواہ وہ کن حالات میں ہو آپ کے متعلق کہہ سکتا ہے کہ آپ ہم میں سے ہیں۔ ۴ 6 لیکن جو مثالیں میں نے اوپر پیش کی ہیں ان کی بناء پر مسلمان تو کہہ سکتے ہیں کہ آپ ہم میں سے ہیں مگر ایک غیر مسلم کس طرح یہ کہہ سکتا ہے سکتا ہے لیکن یادر یاد رکھنا چا۔ منا چاہئے کہ قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ سب گذشتہ بزرگوں کی ضروری اور اچھی تعلیم اس میں ہے اور اس لحاظ سے ہر غیر مسلم بھی کہہ سکتا ہے کہ محمد " ہم میں سے ہے۔ دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ آپ نے تمام گذشتہ انبیاء کی تصدیق کی۔ خدا تعالیٰ نے آپ سے فرمایا۔ کہ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ ٢٦ اور جب ہر قوم میں نبی ہوئے ہیں اور ادھر آپ نے فرمایا کہ تمام انبیاء بھائی بھائی ہیں تو ماننا پڑے گا کہ محمد سلام حضرت رام کرشن ، موسی ، عیسی زرتشت، کنفیوش علیهم السلام سب کے بھائی تھے اور اس طرح ہندوستانی ایرانی مصری ، جاپانی، چینی ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ مُحَمَّدٌ مِنْ اَنْفُسِنَا کیونکہ آپ سب انبیاء کی اسی طرح تصدیق کرتے ہیں جس طرح خودان کے ماننے والے کرتے ہیں۔ پس اس قول میں محمد رسول اللہ مسلم اور ساری اقوام شامل ہیں اور ہر ایک قوم کہہ سکتی ہے کہ محمد "ہم میں سے ہے۔ بعض عیسائی آپ کے متعلق لکھتے ہیں کہ آپ ایک اچھے عیسائی تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ اچھے عیسائی ، موسائی بدھ سب کچھ تھے کیونکہ آپ مسلمان تھے اور مسلمان کے معنے ہی یہ ہیں جو سب صداقتوں کو ماننے والا ہو۔ پس جہاں قرآن کا یہ دعوئی ہے کہ محمد ملا یہ تم میں سے ہے وہاں آپ کی زندگی کا ہر شعبہ اس دعوی کی دلیل ہے۔ تیسری صفت جو قرآن کریم نے آپ کی بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُم تمہارے اوپر تکلیف اس پر گراں گزرتی ہے۔ عزیز میں صرف شاق کا مفہوم ہی