انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 366

انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۶۶ نبی کریم نیم کے پانچ عظیم الشان اوصاف تلواریں پھڑک رہی تھیں مگر آپ نے فرمایا کہ ہم صلح کریں گے ۔ اللہ ہوتا ۴ ۴ آپ نے تجارت بھی کی ہے اور ایسی کہ حضرت خدیجہ کے غلام کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا ایماندار کوئی نہیں دیکھا۔ سب سے زیادہ نفع آپ کو : آپ کو ہوتا تھا۔ آ۔ آپ کی چیز میں اگر کوئی نقص تا تو آپ خود ہی اس کو ظاہر کر دیتے۔ نتیجہ یہ تھا کہ گاہک تلاش کر کے آپ" سے مال خرید ریدتے تے تھے۔ آپ کا غریبوں اور چھوٹوں سے معاملہ ایسا احسان کا نا تھا تھا کہ کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آپ کی گردن میں رسی ڈال دی کہ مجھے کچھ مال دو ۔ آ۔ آپ نے اسے کچھ نہیں کہا بلکہ صرف یہ جواب دیا کہ میں بخیل نہیں ہوں۔ اگر میرے پاس ہوتا تو میں ضرور دے دیتا۔ ۲۲ اس وقت آپ کے دس دس ہزار صحابی آپ کے پاس موجود تھے ۔ اگر آپ ذرا سا بھی اشارہ کر دیتے تو وہ اس کی گردن اڑا دیتے۔ مگر آپ نے ذرا بھی خفگی کا اظہار نہیں کیا۔ غور کرو کون ہے جو اپنے چھوٹوں سے ایسا سلوک کرے۔ م ایک دفعہ حاتم طائی کے قبیلہ کے لوگ آئے تا حالات دیکھ کر اندازہ کریں کہ مسلمانوں سے صلح کر لینی چاہئے یا جنگ۔ ان کے سردار نے اپنے ساتھیوں سے کہا میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ نبی ہیں یا بادشاہ ۔ اس نے دیکھا کہ ایک بڑھیا آئی اور آ آپ کو اپنے ساتھ علیحدہ لے جا کر کھڑی ہو گئی اور دیر تک باتیں کرتی رہی آپ اس کے پاس کھڑے رہے۔ اس سردار نے اپنے ساتھیوں سے کہا یہ شخص بادشاہ نہیں، نبی ہے۔ دوسری قوم کے سفراء پاس بیٹھے ہیں مگر آپ اس وقت تک پوری توجہ ری توجہ سے ایک بڑھیا کی باتیں سنتے رہے جب تک وہ خود نہ چلی گئی۔ پھر بڑے لوگوں نے بھی آپ سے باتیں کیں مگر ان سے بھی اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ ۲۳ کسری نے اپنے گورنر کو کہلا بھیجا کہ اس شخص کو پکڑ کر میرے پاس بھیج دو اس نے اپنے آدمی آپ کے پاس بھیجے ۔ انہوں نے آکر آپ سے کہا کہ آپ چلیں ہم کوشش کریں گے کہ آپ کی جان بخشی ہو جائے مگر انکار سخت نقصان کا موجب ہو گا۔ کسری اس وقت آدھی دنیا کا بادشاہ ہے اور وہ عرب کو تباہ کر دے گا۔ آپ نے جواب کے لئے ایک دن مقرر کیا اور جب مقررہ وقت پر وہ جواب کے لئے آئے تو آپ نے فرمایا جا کر اپنے گورنر سے کہہ دو کہ میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا اچھا ہم دیکھیں گے اگر آپ کی بات کچی ہوئی تو آپ بیشک نبی ہیں۔ چند روز کے بعد ، بعد ایران سے ایک جہاز آیا جس میں گورنر کے نام ایک خط تھا جس پر نئی مہر تھی۔ وہ حیران ہوا کہ کیا معاملہ ہے۔ کھولا تو اس میں لکھا تھا۔ اپنے