انوارالعلوم (جلد 12) — Page 359
انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۵۹ رصاف نبی کریم ملی ایم کے پانچ عظیم الشان او عورت یا لڑکی سے ناجائز تعلق ہے۔ ان حالات میں رہنے والے نوجوانوں سے کوئی شخص اعلیٰ اخلاق کی توقع ہی نہیں کر سکتا۔ مگر آپ نے ایسی گندی فضاء کے باوجود جوانی میں ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ لوگ آپ کو امین اور صدوق کہتے تھے۔ یہ کہنا کہ آپ جھوٹ نہ نہ ہو بولتے ۔ تھے آ۔ آپ کی ہتک ہے۔ کیونکہ آپ صداقت کا ایسا اعلیٰ نمونہ تھے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی اور صداقت کا مقام جھوٹ نہ ہو۔ بولنے سے اوپر ہے۔ ہے۔ پس آپ کا یہی کمال نہیں کہ جھوٹ : نہ ہو۔ بولتے تھے بلکہ صدوق کہلاتے تھے۔ آ۔ آپ کے کلام میں کسی قسم کا اخفاء قسم کا اخفاء ، پردہ دری یا فریب نہ ہو تا تھا۔ یہی وجہ تھے کہ آپ جو کہہ دیتے ، لوگ اسے تسلیم کر لیتے۔ عیسائی مؤرخین تک نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ آپ کی پہلی زندگی سچائی کی زندگی تھی۔ آپ نے اہلِ مکہ سے کہا اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم یقین کرو گے یا نہیں۔ سب نے کہا ہاں ہم مان لیں گے۔ حالانکہ ویران علاقہ تھا اور صفا و مروہ پر چڑھ کر دور دور نظر جاتی تھی۔ ایسی حالت میں آپ کی بات ۔ آپ کی بات ماننے کے صاف معنی میں تھے کہ وہ اپنی آنکھوں کو جھوٹا سمجھتے حالانکہ وہ دیکھ رہے ہوتے کہ کوئی لشکر نہیں مگر آپ کی صداقت کا انکار نہ کر سکتے۔ وہ سب کے سب اپنی آنکھوں کو جھوٹا سمجھنے کیلئے تیار تھے مگر یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ آپ غلط آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ اور جب سب نے یہ اقرار کر لیا تو آپ نے فرمایا ۔ خدا نے مجھے تمہاری ہدایت و اصلاح و اصلاح کیلئے بھیجا ہے۔ اس کا ان لوگوں نے انکار کر دیا۔ پھر آپ کی صداقت کے متعلق ایک سخت دشمن کی گواہی ہے۔ اہل مکہ کو جب خیال ہوا کہ حج کے موقع پر لوگ جمع ہوں گے تو عین ممکن ہے آپ ان میں سے بعض کو اپنے ساتھ ملا لیں اس پر وہ لوگوں کو آپ سے بدظن کرنے کی تجویزیں سوچنے لگے کسی نے کہا یہ مشہور کر دو کہ یہ شاعر ہے۔ کسی نے کہا یہ کہو جھوٹا ہے۔ کسی نے کہا مجنون ہے۔ اس وقت ایک سخت ہوں۔ دشمن نے جو آخر دم تک مخالفت کرتار کرتا رہا کہا۔ بہانہ وہ بناؤ جسے لوگ ماننے کیلئے تیار بھی ؟ جب تم یہ کہو گے کہ جھوٹا ہے۔ تو کیا لوگ یہ نہ پوچھیں گے کہ آج تک تو تم اس کی راستبازی اور صداقت شعار شعاری کے قائل تھے اب یہ جھوٹا کیسے ہو گیا اس لئے لئے ممزر ایسا بناؤ جسے لوگ مان جائیں۔ مگر وہ کوئی عذر نہ گھڑ سکے۔ اپنی جوانی کے زمانہ کے متعلق خود رسول کریم ملی کا بیان ہے کہ دو مواقع ایسے آئے کہ میں نے کوئی تماشا و غیرہ دیکھنے کا ارادہ کیا۔ جیسے مداری وغیرہ کا کھیل ہوتا ہے مگر