انوارالعلوم (جلد 12) — Page 358
انوار العلوم جلد ۱۲ ۳۵۸ نبی کریم ملی ایم کے پانچ عظیم الشان اوصاف پاکیزہ تھی کہ یورپ کے متعصب لوگ بھی لکھتے ہیں اس زندگی کا ایسا غیر معمولی ہونا ثابت کرتا ہے کہ آپ مجنون تھے ۔ گویا یہ نئی بات انہوں نے دریافت کی ہے کہ جس بچے کے اخلاق اچھے ہوں، عادات و خصائل عمدہ ہوں، وہ مجنون ہوتا ہے۔ آپ والدین سے بہت محبت کا معاملہ کرتے تھے۔ جس قسم کا حسن سلوک آپ نے ابو طالب اور ان کی بیوی سے ان کی بیوی سے کیا ہے اس کی نظیر اس کے سگے بیٹوں میں بھی نہیں ملتی۔ فتح مکہ کے بعد لوگوں نے دریافت کیا کہ آپ کس مکان میں ٹھریں گے۔ آپ نے بغیر کسی قسم کے غصہ کے فرمایا۔ عقیل نے کوئی مکان باقی چھوڑا ہے کہ اس میں ٹھہریں یعنی چا زاد بھائیوں نے سب بیچ دیتے ہیں۔ آپ نے نہ صرف یہ کہ باپ کی محبت کو ابو طالب کے متعلق قائم رکھا بلکہ تعلیم دی کہ ماں باپ کو اُف کا کلمہ بھی نہ کہو۔ یہی وہ سلوک ہے ہے جو آپ نے اپنے چچا سے کیا۔ نبوت پر فائز ہونے کے بعد آپ کی زندگی کا ایک عجیب واقعہ ہے۔ مکہ کی مخالفت انتہاء پر پہنچ گئی ہے، رؤسائے قریش نے ابو طالب کو دھمکی دی ہے کہ اگر تم نے محمد کو نہ روکا تو تمہیں بھی نقصان اٹھانا پڑے گا ابو طالب اس دھمکی سے گھبرا گئے ۔ جب رسول کریم میں ہم گھر آئے تو انہوں نے بلا کر کہا۔ بیٹا! مکہ کے رئیس اس طرح کہتے ہیں کیا یہ ممکن نہیں کہ کوئی ایسی پالیسی اختیار کر لو جس سے ان کی بھی دلجوئی ہو جائے۔ میں سمجھتا ہوں آنحضرت میں یہ کی افسردگی کی گھڑیوں میں سے یہ سخت ترین گھڑی تھی۔ ایک طرف وہ شخص تھا جس نے نہایت محبت سے پالا تھا اور جس کے پاؤں میں کانٹا لگنا بھی آپ گوارا نہ کر سکتے تھے اسے ساری قوم ذلیل کرنے اور نقصان پہنچانے کی دھمکی دے رہی تھی۔ دوسری طرف خدا تعالی کی صداقت کا اظہار تھا۔ آ۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ نے کہا چا! میں ساری تکالیف برداشت کرلوں گا مگر خدا کا پیغام پہنچانے سے نہیں رہ سکتا۔ ابو طالب اس بات سے بخوبی واقف تھے اور وہ جانتے تھے کہ اس راہ میں اگر آپ کو اپنے خون کا آخری قطرہ بھی گرانا پڑے تو آپ اس سے دریغ نہ کریں گے۔ انہوں نے آپ کا جواب سن کر کہا جا! جو تجھے خدا نے کہا ہے لوگوں کو پہنچا میں تیرے ساتھ ہوں۔ یہ وہ بہترین نمونہ ہے جو حالت یتیمی میں آپ نے دکھایا۔ اور اس سے بہتر نمونہ کیا کوئی دکھلا سکتا ہے۔ اس کے بعد آپ جوان ہوئے۔ لوگ اس عمر میں کیا کچھ نہیں کرتے عرب میں اس وقت کوئی قانون نہ تھا۔ کوئی اخلاقی ضابطہ نہ تھا۔ لوگ اس پر فخر کرتے تھے کہ ہمارا فلاں کی