انوارالعلوم (جلد 12) — Page 279
انوا را معلوم چند ۱۴ ۲۷۹ امیر الحدیث کے چیلینج مساجد کا جواب درمیان ایک پردہ ہوتا۔ یعنی انہوں نے بحث کو اس کی حدود سے بھی آگے گزار دیا تھا اور کج بحثی پر اتر آئے تھے۔ کیا میں سالہ نزول و اشاعت قرآن کریم کے بعد کافی نہ تھا کہ آپ اس بحث میں نہ پڑتے اور فور امباہلہ کا چیلنج دے دیتے ؟ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آخری وقت تک فریق مخالف پر حجت تمام کی جائے اور مباہلہ کے وقت تک اسے موقع دیا جائے کہ وہ دلا کل رحمت کو مان لے اور دلائل عقلیہ کا طالب نہ ہو۔ پس یہ مسنون طریق کسی صورت سے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اگر سید محمد شریف صاحب اپنی طرف سے محبت کو تمام شدہ سمجھتے ہیں تو میری طرف سے ان کو اجازت ہے کہ وہ تقریر نہ کریں۔ میں اپنے عقیدے کی رو سے مجبور ہوں کہ مباہلہ سے پہلے اپنے عقائد اور دلائل بیان کر دوں تاکہ اس وقت بھی اگر کوئی شخص مباہلہ سے ہٹنا چاہے تو ہٹ جائے اور مباہلہ سے بچ جائے۔ دوسری بات انہوں نے یہ لکھی ہے کہ میں ایک ہزار آدمی سے بھی زیادہ مباہلہ کے لئے اپنے ہمراہ نا سکتا ہوں لیکن چونکہ آیت قرآنیہ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَ كُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُمْ وَاَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ل سے ثابت ہے کہ ہے کہ دوسرے لوگ ساتھ نہ تھے، اس لئے میں قرآنی مباہلہ تبدیل نہیں کر سکتا۔ سید صاحب موصوف یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ کسی صاحب علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ باوجود ایک لاکھ صحابہ کی موجودگی کے حضرت رسول کریم نے ایک صحابی کو بھی ساتھ نہیں لیا تھا۔ مجھے تعجب ہے کہ باوجود آیت قرآنیہ کے نقل کر دینے کے پھر بھی سید صاحب موصوف کا خیال ہے کہ مباہلہ میں حضرت رسول کریم ملی کے ساتھ اور کوئی شخص نہ تھا۔ سید صاحب نے اپنے پہلے اشتہار میں اس آیت کا ترجمہ خود ہی یوں کیا ہے:۔ ১৯ ہم اپنی جانوں کو جلا میں تم اپنی جانوں کو بلاؤ " میں پوچھتا ہوں کہ "ہم" اور "تم " کون ہیں۔ جن کی ایک ایک سے زیادہ جانیں ہیں ؟ بیٹوں، بیٹیوں اور بیویوں کا ذکر تو پہلے آچکا تھا۔ اب یہ اَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ سے مراد کون لوگ ہیں ؟ جب وہ خود اپنے ترجمہ میں اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ ایک جماعت دو سری جماعت سے مباہلہ کرتی ہے تو اب وہ کس طرح اس بات کا انکار کر سکتے ہیں؟ ہر شخص جو عربی زبان سے ذرہ بھی مس رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ اس آیت میں جماعت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ