انوارالعلوم (جلد 12) — Page 278
اوا را العلوم چند ۱۴ ۲۷۸ امیرا باند بیت کے چیلینج مباہلہ کا جواب اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ سید محمد شریف صاحب امیر جماعت اہلحدیث کے اشتہار مباہلہ کا جواب میرے اس اشتہار کے جواب میں جو سید محمد شریف صاحب امیر جماعت اہلحدیث کے چیلنج مباہلہ کے متعلق پچھلے دنوں میں نے شائع کیا تھا سید صاحب موصوف کی طرف سے ایک دوسرا اشتہار شائع ہوا ہے۔ اس اشتہار میں انہوں نے اور تو یہ سوال اٹھایا ہے کہ مباہلہ سے پہلے کسی تقریر کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر دو فریق ایک دوسرے پر کافی حد تک اتمام حجت کر چکے ہیں بس بغیر تقریروں کے مباہلہ کے میدان میں آجانا چاہئے۔ مجھے سید صاحب موصوف کے اس بیان پر تعجب ہے۔ ہم لوگ اس بات کو نہیں بھول | سکتے کہ نجران کے مسیحیوں کو مباہلہ کا چیلنج حضرت رسول اللہ نے اپنی مبارک زندگی کے آخری ایام میں دیان دیا تھا۔ اس سے پہلے میں سال سے زائد عرصہ تک قرآن کریم آپ پر نازل ہوتا اور شائع ہوتا رہا۔ خود علاقہ یمن میں جس سے یہ مسیحی لوگ آئے تھے اسلام کی اشاعت کافی طور پر ہو چکی ہوئی تھی۔ پس باوجود ایک لمبا عرصہ عقلی و نقلی دلائل پیش کرنے کے اور با وجود زبردست نشانات کے متواتر ظاہر ہونے کے پھر بھی آنحضرت نے نجران کے عیسائیوں کو فورا ہی مباہلہ کی دعوت نہیں دی تھی بلکہ بڑی لمبی بحث کے بعد انہیں مباہلہ کیلئے بلایا تھا۔ حتی کہ اس شدت بحث کی وجہ سے بقول عبد الله بن الحراث بن جزر الزبیدی آنحضرت میں نے فرمایا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ اَهْلِ نَجْرَانَ حِجَابا کاش میرے اور اہل نجران کے