انوارالعلوم (جلد 12) — Page 276
انوار العلوم جلد ۱۲ ۲۷۶ ا میرا بلند بیث کے چیلنج میابد کا جواب معقول سمجھتا ہوں کہ نتیجہ مباہلہ انسانی ہاتھوں سے بالا ہو ۔ لیکن مجھے ان کی دو باتوں سے اختلاف ہے۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے خود ہی تاریخ مقرر مقرر کر دی ہے اور دوسرے یہ کہ مقام مباہلہ بھی خود ہی مقرر کر دیا ہے حالانکہ ہو سکتا ہے کہ دوسرے فریق کے لئے یہ تاریخ مناسب نہ ہو اور یہ مقام کسی وجہ سے موزوں نہ خیال کیا جائے۔ پس ان دو باتوں کے متعلق میں چاہتا ہوں کہ وہ دو آدمی اپنی طرف سے مقرر کر دیں اور دو آدمی میری طرف سے ہو جائیں وہ چاروں مل کر تین اور مسلمہ فریقین آدمیوں کی موجودگی میں مقام مباہلہ اور تاریخ مباہلہ مقرر کریں تاکہ کسی فریق کو بلاوجہ تکلیف نہ ہو۔ تین آدمیوں کی موجودگی کی شرط میں نے اس لئے لگائی ہے تاکہ اگر کسی امر میں اختلاف ہو تو وہ گواہی دے سکیں۔ اس کے علاوہ میں یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم سے مباہلہ کے متعلق دو امور خاص طور پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مباہلہ سے پہلے حجت کا پورا ہونا ضروری ہے اس لئے یہ ضروری ہو گا کہ مباہلہ سے پہلے فریقین ایک دوسرے کے سامنے اپنے دعوئی کے دلائل بیان کریں اور دوسرے کی غلطی کو ثابت کریں تاکہ ہر فریق یہ کہہ سکے کہ اس نے محبت پوری کرنے کے بعد مباہلہ کیا ہے اور حکم قرآنی پورا ہوا رسوں کریم میں نے بھی محبت اس کا نام نہیں رکھا تھا کہ پندرہ سولہ سال سے قرآن کریم شائع ہو رہا ہے اور مباحثات ہو رہے ہیں بلکہ مباہلہ سے پہلے مباہلہ کے مخاطبین سے گفتگو فرمائی تھی۔ پس ضروری ہو گا کہ مباہلہ کرنے والے فریق مباہلہ سے چار گھنٹے پہلے مقرر کردہ مقام پر جمع ہو م پر جمع ہو جا میں اور دو گھنٹہ گھنٹہ میں تقریر کروں اور دو گھنٹہ سید محمد شریف صاحب تقریر کریں۔ اس کے بعد اگر فریقین مباہلہ پر مصر ہوں تو مباہلہ کریں ورنہ نہیں۔ یہ شرط نہیں کہ ضرور ہر فریق دو گھنٹے بولے اگر کوئی فریق اس سے کم بولنا چاہے تو ایسا کر سکتا ہے۔ اس سے زائد وقت کوئی فریق نہ لے۔ دوسری زیادتی میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ اس مباہلہ میں صرف میں اور سید محمد شریف صاحب نہ ہوں بلکہ دونوں کے مبائعین میں سے ہزار ہزار آدمی اور شامل ہوں جن کی فہرست اور ان کے پتے ہر فریق دوسرے کو پہلے سے مہیا کر دے۔ اگر اس تعداد کو سید محمد شریف صاحب زیادہ سمجھیں تو اس میں کسی قدر کمی کی جا سکتی ہے۔ مثلا کم سے کم پانچ سو آدمی کی شرط کی جا سکتی ہے۔ گو بوجہ اس کے کہ اہلحدیث کی تعداد ہم سے بہت ہی زیادہ ہے ایک ہزار آدمی کا اپنے ساتھ لانا ان کے لئے مشکل نہیں لیکن میں خواہ مخواہ روک بھی ڈالنا نہیں چاہتا اگر وہ