انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 275

انوار العلوم حید ۱۳ ۲۷۵ امیراباد بیت کے چیلنج مباہلہ کا جواب اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ امیراہلحدیث کے چیلنج مباہلہ کاجواب سید محمد شریف صاحب ساکن گھریالہ ضلع لاہور نے جو اپنے آپ کو امیر جماعت الحدیث لکھتے ہیں ، ایک چیلنج مباہلہ کا شائع کیا ہے جسے انجمن ابلحد یث بٹالہ اور ناظم جماعت مرکز یہ امر تسر نے میرے نام بھی ارسال کیا ہے۔ اس چیلنج کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ وفات مسیح پر اور بانی سلسلہ احمدیہ کے دعاوی پر کافی مباحثات ہو چکے ہیں اس لئے بموجب حکم قرآن اب جماعت احمدیہ کے امام کو ان سے مباہلہ کرنا چاہئے ۔ مقام مباہلہ امرتسر کی عید گاہ اور تاریخ مباہلہ ۱۲۔ جولائی انہوں نے قرار دی ہے۔ نتیجہ کی معیاد ایک سال تجویز کی ہے۔ اور شرط کی ہے کہ نتیجہ مباہلہ خرق عادت اور انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہونا چاہئے۔ قطع نظر اس کے کہ مجھے اس اشتہار کی بعض باتوں سے اختلاف ہے میں یہ کئے بغیر نہیں رہ سکتا که این اشتہار کالجہ ان تمام اشتہارات سے اعلیٰ ہے جو اس وقت تک جماعت احمد یہ کو دعوت مباہلہ دینے والوں کی طرف سے شائع ہو چکے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اس اشتہار کی عبارت کو داعی مباہلہ کے دل کا آئینہ قرار دیا جائے تو مجھے امید کرنی چاہئے کہ آخر ایک مباہلہ احمدیوں اور غیر احمدیوں میں مطابق احکام قرآنی قرار پا سکے گا۔ میں سید محمد شریف صاحب سے اس امر میں متفق ہوں کہ امور کہہ دینیہ میں مباہلہ جائز ہے۔ اور یہ کہ میعاد مباہلہ ایک سال ہونی چاہئے اور یہ بھی کہ دونوں مباہلہ کرنے والے فریقوں میں سے تبھی کسی فریق کو جیتا ہوا قرار دیا جا سکتا ہے جب کہ نتیجہ مباہلہ اس کے مخالف کے حق میں خارق عادت طور پر ظاہر ہو اور اشتباہ کو دور کرنے کیلئے میں اس شرط کو بھی خارق عادت سے مراد قرآنی خارق عادت ہے جیسے موت ت کوئی ذلت والی بیماری یا حقیقی - رسوائی وغیرہ نہ کہ لوگوں کا اپنا بنایا ہوا۔