انوارالعلوم (جلد 12) — Page 232
انوارالعلوم جلد ۱۴ ۲۳۲ تحریک آزادی کشمیر مقدمہ چلایا گیا ہے۔ میں نے اس کے متعلق حکومت کشمیر سے خط و کتابت کی ہے اور جو جواب وزیر اعظم صاحب کی طرف سے آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارہ میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے کیونکہ ان کے جواب میں اس لہر سے قطعاً انکار کیا گیا ہے اور لکھا ہے کہ نہ کسی شخص کو رے قطعا انکار گیا ہے ہے نہ کا سیاہ نشان لگانے پر سزا دی گئی ہے اور نہ مقدمہ ہی چلایا گیا ہے۔ اگر یہ بیان درست ہے تو مجھے تعجب ہے کہ رپورٹ دینے والوں کو اتنا بڑا مغالطہ کیونکر لگ گیا۔ بہر حال یہ سوال حل ہو گیا ہے کہ سیاہ نشان لگانے کو ریاست کشمیر میں جرم نہیں قرار دیا گیا۔ میں اس خواہش کے اظہار پر اس خط کو ختم کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس موسم گرما میں توفیق دے کہ خواہ چند دن کے لئے ہو کشمیر آکر خود صورت حالات کا معائنہ کر سکوں اور اس ملک کے مرض کو بذات خود دیکھ کر اس کے علاج کی پہلے سے زیادہ تدبیر کرنے کی توفیق پاؤں۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ وَأَخِرُ دَعَوْنَا آنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خاکسار مرزا محمود احمد صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی الفضل حکیم مئی ۱۹۳۲ء تاریخ احمدیت جلد ۶ ضمیمہ نمبر صفحه ۲۹ تا ۳۲ مطبوعه ۱۹۷۵ء)