انوارالعلوم (جلد 12) — Page 231
انوار العلوم جلد ۱۳ کی آزادی سے پہلے اسمبلی کا انتخاب ہو۔ ۳۳۱ تحریک آزادی کشمیر لیکن چونکہ بعض قومی غدار اندر ہی اندر اس کی تیاریاں کر رہے ہیں، اختلاف چھوڑ دیں اہل جموں و کشمیر کو ہوشیار کر دینا چاہتا ہوں اور ساتھ ہی خواجه سعد الدین صاحب شال، خواجہ غلام احمد صاحب اشائی اور دوسرے کارکنوں کو جن کی گزشتہ قومی خدمات کا انکار نہیں ہو سکتا توجہ دلاتا ہوں کہ اب وقت ہے وہ قومی تحریکات کو مضبوط کرنے کے لئے اختلاف چھوڑ دیں۔ میں ہمیشہ ان کا خیر خواہ رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ان کی گزشتہ خدمات قومی تحسین کا انعام حاصل کئے بغیر نہ رہیں۔ پس میں ان سے اور ان کے دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ قومی کارکنوں کی خدمت میں آکر شامل ہو جائیں اور یقین رکھیں کہ اس طریق کو اختیار کر کے انہیں ذلت نہیں بلکہ عزت حاصل ہوگی۔ ایک دو اور باتیں ہیں جن کا ذکر کر کے میں اس خط کو ظلم کے روکے جانے کے سامان ختم کرنا چاہتا ہوں ۔ اول یہ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ - گو اصلاحات کا اعلان ہو گیا ہے لیکن ظلم تو ابھی تک جاری ہے۔ اس شبہ کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوڑتے ہوئے گھوڑے ہوئے گھوڑے کو یکدم نہیں روکا جا سکتا۔ طوفان بھی تھمتے ہوئے کچھ وقت لیتا ہے۔ پس ظلم کو جاری ہے لیکن ایسے سامان ہو رہے ہیں کہ انشاء اللہ ظلموں کا بھی انسداد ہو جائے گا۔ میں ابھی تفصیل نہیں بیان کرنا چاہتا لیکن یہ میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر میرے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے عقل سے کام لیا گیا تو تھوڑے سے عرصہ میں ظلم کے روکے جانے کے بھی سامان ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وکلاء کے متعلق اعلان دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ وکلاء کے متعلق جو اعلان میں نے کیا تھا، اس میں بعض غلط فہمیوں سے کچھ الجھن پیدا ہو گئی ہے لیکن اس کے لئے میں کوشش کر رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہتری کی توقع رکھتا ہوں۔ اور اگر لوگوں کو پوری طرح ڈیفنس کا موقع نہ دیا گیا تو میں انشاء اللہ اور ایسی تدابیر اختیار کروں گا کہ جن سے لوگوں کے اس اہم حق کی طرف حکومت کو توجہ ہو۔ تیسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ میں نے جو سیاہ نشان لگانے کا اعلان کیا تھا، سیاہ نشان اس کے متعلق مجھے سری نگر سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ سیاہ نشان لگانے کو مجرم قرار دیا گیا ہے اور اس نشان کے لگانے کے سبب سے بعض لوگوں کو گرفتار کر کے ان پر