انوارالعلوم (جلد 12) — Page 226
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۲۶ تحریک آزادی کشمیر خواہ وہ قید میں ہیں یا آزاد ہم ان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ایک خوشخبری میں اور دیتا ہوں کہ اس وقت سب سے زیادہ تکلیف لوگوں کو مقدمات کی تھی کیونکہ باہر سے وکیل آنے کی اجازت نہ تھی اور ریاستی وکلاء میں مسلمان بہت کم تھے اور ان میں سے تجربہ کار اور بھی کم تھے۔ میں نے چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر برادر خورد چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹر کو اس کام کیلئے جموں بھجوایا تھا۔ جنہوں نے آنریبل مسٹر ولال چیف جسٹس ریاست جموں و کشمیر سے گفتگو کی اور چیف جسٹس صاحب نے اجازت کی ضرورت کو تسلیم کر کے حکومت کے پاس اس قید کے اُڑانے کی سفارش کی۔ مہاراجہ صاحب نے عنایت فرما کر پہلے قانون میں تبدیلی کر دی ہے اور اب چیف جسٹس صاحب کی اجازت سے باہر کے وکلاء بغیر کسی خاص فیس ادا کرنے کے مقدمات میں پیش ہو سکیں گے۔ اس سے امید ہے کہ وہ بے اطمینانی جو پیدا ہو رہی تھی دور ہو جائے گی اور لوگوں کو ان الزامات کے دور کرنے کا کافی موقع مل جائے گا جو بعض متعقب افسروں نے بلاوجہ ان پر لگائے ہیں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ اس غرض کیلئے قومی درد رکھنے والے وکلاء انشاء اللہ میسر آ جائیں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ جلد بعض و دوسری تکالیف کا بھی ازالہ کا بھی ازالہ ہو جائے گا اور آپ لوگوں کو آرام کا سانس لینا میسر ہو گا۔ خدا کرے کہ میری یہ امید ٹھیک ہو ۔ والسلام خاکسار مرزا محمود احمد ) تاریخ احمدیت جلد ۶ ضمیمہ نمبر ا صفحه ۲۶ تا ۲۸ مطبوعه ۱۹۶۵ء)